سلسلہ احمدیہ — Page 321
۳۲۱ کے ذکر سے تسلی پانے کے لئے سب لوگ مسجد نور میں جمع ہو گئے۔نماز کے بعد حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب نے ایک مختصر مگر نہایت درد انگیز اور موثر تقریر فرمائی اور ہر قسم کے اختلافی مسئلہ کا ذکر کرنے کے بغیر جماعت کو نصیحت کی کہ یہ ایک نہایت نازک وقت ہے اور جماعت کے لئے ایک بھاری ابتلاء کی گھڑی در پیش ہے پس سب لوگ گریہ وزاری کے ساتھ خدا سے دعائیں کریں کہ وہ اس اندھیرے کے وقت میں جماعت کے لئے روشنی پیدا کر دے اور ہمیں ہر رنگ کی ٹھوکر سے بچا کر اس رستہ پر ڈال دے جو جماعت کے لئے بہتر اور مبارک ہے اور اس موقعہ پر آپ نے یہ بھی تحریک فرمائی کہ جن لوگوں کو طاقت ہو وہ کل کے دن روزہ بھی رکھیں تا کہ آج رات کی نمازوں اور دعاؤں کے ساتھ کل کا دن بھی دعا اور ذکر الہی میں گزرے۔اس تقریر کے دوران میں لوگ بہت روئے اور مسجد کے چاروں کونوں سے گریہ و بکا کی آوازیں بلند ہوئیں مگر تقریر کے ساتھ ہی لوگوں کے دلوں میں ایک گونہ تسلی کی صورت بھی پیدا ہوگئی اور وہ آہستہ آہستہ منتشر ہو کر دعائیں کرتے ہوئے اپنی اپنی جگہوں کو چلے گئے۔رات کے دوران میں اس بات کا علم ہوا کہ منکرین خلافت کے لیڈر مولوی محمد علی صاحب ایم اے نے حضرت خلیفہ اول کی وفات سے قبل ہی ایک رسالہ ” ایک نہایت ضروری اعلان کے نام سے چھپوا کر مخفی طور پر تیار کر رکھا تھا اور ڈاک میں روانہ کرنے کے لئے اس کے پیکٹ وغیرہ بھی بنوارکھے تھے اور اب یہ رسالہ بڑی کثرت کے ساتھ تقسیم کیا جارہا تھا۔بلکہ یہ محسوس کر کے کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات بالکل سر پر ہے آپ کی زندگی میں ہی اس رسالہ کو دور کے علاقوں میں بھجوادیا گیا تھا۔اس رسالہ کا مضمون یہ تھا کہ جماعت میں خلافت کے نظام کی ضرورت نہیں بلکہ انجمن کا انتظام ہی کافی ہے البتہ غیر احمدیوں سے بیعت لینے کی غرض سے اور حضرت خلیفہ اول کی وصیت کے احترام میں کسی شخص کو بطور امیر مقرر کیا جا سکتا ہے۔مگر یہ شخص جماعت یا صدر انجمن احمد یہ کا مطاع نہیں ہوگا بلکہ اس کی امارت اور سرداری محدود اور مشروط ہو گی وغیرہ وغیرہ۔یہ اشتہار یا رسالہ ہیں اکیس صفحے کا تھا اور اس