سلسلہ احمدیہ — Page 288
۲۸۸ فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ عالم معاد میں وہ تمام امور جو دنیا میں روحانی تھے جسمانی طور پر متمثل ہوں گے۔اس بارے میں جو کچھ خدائے تعالیٰ نے فرمایا اس میں سے ایک آیت یہ ہے وَمَنْ كَانَ فِي هَذِةِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلا ! یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا ہو گاوہ دوسرے جہان میں بھی اندھا ہو گا۔اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ اس جہان کی روحانی نابینائی اس جہان میں جسمانی طور پر مشہود اور محسوس ہوگی۔تیسرا دقیقہ معرفت کا یہ ہے کہ عالم معاد میں ترقیات غیر متناہی ہوں گی۔تنزل کبھی نہیں ہوگا اور نہ کبھی بہشت سے نکالے جائیں گے بلکہ ہر روز آگے بڑھیں گے۔۔۔اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن شریف کی رو سے دوزخ اور بہشت دونوں اصل میں انسان کی زندگی کے اظلال اور آثار ہیں۔کوئی ایسی نئی جسمانی چیز نہیں ہے کہ جو دوسری جگہ سے آوے۔یہ سچ ہے کہ وہ دونوں جسمانی طور سے متمثل ہوں گے مگر وہ اصل روحانی حالتوں کے اظلال و آثار ہوں گے۔ہم لوگ ایسی بہشت کے قائل نہیں کہ صرف جسمانی طور پر ایک زمین پر درخت لگائے گئے ہوں اور نہ ایسی دوزخ کے ہم قائل ہیں جس میں درحقیقت گندھک کے پتھر ہیں بلکہ اسلامی عقیدہ کے موافق بہشت و دوزخ انہی اعمال کے انعکاسات ہیں جو دنیا میں انسان کرتا ہے۔‘‘ ۲ اسی طرح حضرت مسیح موعود نے یہ تعلیم دی کہ گو جنت کا انعام دائمی ہے اور کبھی ختم نہیں ہوگا مگر دوزخ کا عذاب دائمی نہیں ہے بلکہ ایک لمبے زمانہ کے بعد ختم ہو جائے گا کیونکہ اسلامی تشریح کے مطابق دوزخ صرف ایک عذاب خانہ ہی نہیں بلکہ ایک رنگ کا ہسپتال بھی ہے جس میں ہر روحانی بنی اسرائیل ۷۳ اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلده اصفحه ۴۰۰ تا ۴۱۴