سلسلہ احمدیہ — Page 264
۲۶۴ بے خبر تھے اور دوسری قوموں کی طرح اس خام خیالی پر تسلی پائے ہوئے تھے کہ دنیا میں صرف عمل ہی عمل ہے اور جزا کا پہلو کلیہ آخرت کے ساتھ مخصوص ہے۔حضرت مسیح موعود نے اس باطل خیال کو بختی کے ساتھ روفر مایا اور تشریح کے ساتھ بیان کیا کہ اگر دنیا میں صرف وعدہ ہی وعدہ ہے اور آخرت کی بہشتی زندگی کا کوئی اثر دنیا کی زندگی میں ظاہر نہیں ہوتا تو پھر یہ عمل وجزا کا سارا سلسلہ ایک جوئے کی کھیل سے زیادہ نہیں جس کے متعلق انسان کچھ نہیں کہہ سکتا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔آپ نے بڑے زور کے ساتھ لکھا کہ حقیقی نجات وہی ہے جس کا آغاز اسی دنیا سے ہو جاتا ہے اور سچا مذہب وہی ہے جو اپنے ماننے والوں کو اسی زندگی میں ایمان کا شیریں پھل چکھا دیتا ہے اور صرف آخرت کے موہوم وعدہ پر نجات کی بنیاد نہیں رکھتا۔آپ نے دوسری قوموں کو بھی متنبہ فرمایا کہ وہ صرف آنے والی زندگی کے خالی وعدوں پر تسلی نہ پائیں اور اگر ان کا مذہب ان کے لئے اسی دنیا میں جنتی زندگی کی داغ بیل قائم نہیں کرتا تو قبل اس کے کہ موت ان کے لئے تلاش کا رستہ بند کر دے وہ اپنی آنکھیں کھولیں اور اس مذہب کی تلاش میں لگ جائیں جو آخرت کے وعدہ کے ساتھ ساتھ جنت کا کچھ نمونہ اس دنیا میں بھی پیش کر دیتا ہے۔آپ نے لکھا کہ اسلام کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس پر ایمان لا کر اور اس کے حکموں پر چل کر انسان اسی دنیا میں خدا کو پالیتا ہے اور یہ پانا ایک خیالی فلسفہ کے طور پر نہیں ہوتا بلکہ ایک زندہ حقیقت کا رنگ رکھتا ہے یعنی اس مقام پر پہنچ کر خدا اپنے بندے کی دعاؤں کو سنتا اور اپنے کلام سے اس کو مشرف کرتا اور اس کے لئے اپنی قدرت کے جلوے دکھاتا ہے اور ہر رنگ میں اس پر ثابت کر دیتا ہے کہ میں تیرازندہ اور قادر خدا ہوں اور میری نصرت کا ہاتھ تیری زندگی کے ہر قدم میں تیرے ساتھ ہے۔ایسے شخص کے لئے آخرت کی زندگی ایک خالی وعدہ نہیں رہتی بلکہ دنیا کی زندگی کا ایک خوش کن تسلسل بن جاتی ہے اور گو بہر حال مکمل اور تفصیلی اجر کا گھر تو آخرت ہی ہے مگر اس کی جھلک اسی دنیا میں نظر آ جاتی ہے اور حضرت مسیح موعود نے اپنے مخالفوں کو بلایا کہ آؤ اور میرے ساتھ ہوکر اس بہشتی جھلک کا نظارہ دیکھ لویلے لے اس اصول کی تشریح کے لئے دیکھو حضرت مسیح موعود کی کتب کشتی نوح اور لیکچر لا ہور اور براہین احمدیہ حصہ پنجم وغیرہ