سلسلہ احمدیہ — Page 265
۲۶۵ قرآن میں کوئی آیت منسوخ نہیں :۔مسلمانوں میں جہاں اور بہت سی غلطیاں آگئی تھیں وہاں ایک غلط خیال ان میں یہ بھی پیدا ہو گیا تھا کہ نعوذ باللہ سارا قرآن شریف قابل عمل نہیں بلکہ اس کی بعض آیتیں منسوخ ہو چکی ہیں۔اس گندے عقیدے نے یہاں تک زور پکڑا تھا کہ بعض لوگوں نے تو قرآن شریف کی کئی سو آیات منسوخ قرار دے دیں اور اس خیال نے بعض بڑے عالموں کے دل و دماغ پر بھی قبضہ پالیا۔اس طرح نہ صرف خدا کی اس وسیع رحمت کو جو قرآن شریف کے ذریعہ نازل ہوئی محدود کر دیا گیا بلکہ نسخ کے دروازہ کو کھول کر گویا سارے قرآن کو ہی یقین اور قطعیت کے مقام سے گرا کر شک کے گڑھے میں اتار دیا گیا۔حضرت مسیح موعود نے بڑی سختی کے ساتھ اس بیہودہ عقیدہ کور دفرمایا اور لکھا کہ جن لوگوں نے قرآنی آیات کو منسوخ قرار دیا ہے یہ ان کی اپنی کم علمی اور کو تہ نظری کی علامت ہے کیونکہ اگر انہیں کسی آیت کے معنے واضح نہیں ہوئے تو انہوں نے اسے اپنی کم نہی کی طرف منسوب کرنے کی بجائے قرآن کی طرف منسوب کر دیا۔آپ نے لکھا کہ کسی آیت کو منسوخ ہونا تو در کنار قرآن شریف کا ایک نقطہ اور شععہ بھی منسوخ نہیں اور الحمد سے لے کر والناس تک سارا قرآن واجب العمل اور سراسر رحمت ہی رحمت ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں:۔جو شخص اپنے نفس کے لئے خدا کے حکم کو ٹالتا ہے وہ آسمان میں ہرگز داخل نہیں ہوگا۔سوتم کوشش کرو جو ایک نقطہ یا ایک شعشہ قرآن شریف کا بھی تم پر گواہی نہ دے تا تم اسی کے لئے پکڑے نہ جاؤ ! پھر فرماتے ہیں:۔علماء نے مسامحت کی راہ سے بعض احادیث کو بعض آیات کی ناسخ ٹھہرایا ہے حق یہی ہے کہ حقیقی نسخ اور حقیقی زیادت قرآن پر جائز نہیں کیونکہ اس سے اس کی تکذیب لازم آتی ہے۔“ ہے کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۵ ۲۶ ۲ الحق لدھیانہ ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۹۳٬۹۲