سلسلہ احمدیہ — Page 250
۲۵۰ ہو چکی ہیں اور آئندہ ان صفات کا ظہور بند ہے۔مثلاً موجودہ زمانہ میں اکثر مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہو رہا تھا کہ خدا بے شک پہلے زمانوں میں بولتا تھا اور اپنے خاص لوگوں کے ساتھ کلام کرتا تھا مگر اب وہ کلام نہیں کرتا اور اس کی اس صفت کا ظہور بند ہو چکا ہے اسی طرح مسلمانوں کے ایک حصہ کا یہ عقیدہ بھی ہو چکا تھا کہ موجودہ زمانے میں خدا سنتا بھی نہیں اور یہ جو اسلام میں دعا پر زور دیا گیا ہے یہ صرف ایک عبادت اور اظہار عقیدت کا ذریعہ ہے۔ورنہ یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ دعا کو سنے اور اس پر کوئی نتیجہ مرتب کرے وغیرہ وغیرہ۔حضرت مسیح موعود نے اس قسم کے جملہ باطل خیالات کو سختی کے ساتھ رد کیا اور بڑے زور کے ساتھ فرمایا کہ خدا کی کوئی صفت بھی معطل نہیں بلکہ موجودہ زمانہ میں بھی اس کی ہر صفت اسی طرح ہوشیار اور حیر عمل میں ہے جس طرح کہ وہ پہلے زمانوں میں تھی اور آپ نے صراحت کے ساتھ لکھا کہ خدا کی کسی صفت کو معطل قرار دینا اس کی قدوسیت اور از لیت پر ایک خطر ناک حملہ ہے کہ گویا خدا کا ایک حصہ مردہ کی طرح ہو گیا ہے۔چنانچہ جن جن صفات کو لوگ اپنی نادانی سے معطل قرار دے رہے تھے آپ نے انہیں بڑے زبردست دلائل کے ساتھ زندہ اور چوکس ثابت کیا اور بتایا کہ اس قسم کے گندے خیالات محض اس وجہ سے پیدا ہوئے ہیں کہ لوگ خود گندوں میں مبتلا ہو جانے کی وجہ سے ان خدائی صفات کا مور دنہیں رہے۔دعا محض عبادت نہیں بلکہ ایک جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے جن صفات الہی کو عملاً معطل قرار دیا جا رہا تھا ان میں ایک صفت قبولیت دعا کی تھی یعنی زندہ اور زبر دست طاقت ہے:۔مسلمانوں کا ایک فریق مغربی ممالک کی دہریت سے متاثر ہوکر اور خود اپنی روحانیت کو کھو کر اس بات کا قائل ہو رہا تھا کہ دعا محض ایک عبادت ہے اور یہ نہیں کہ خدا تعالی دعا کوسن کر کوئی نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ہندوستان میں اس گروہ کے لیڈر سرسید احمد خان صاحب مرحوم بانے علی گڑھ کالج تھے۔سید صاحب مسلمانوں کے ہمدرد اور خیر خواہ تھے اور اسلام کا درد بھی رکھتے تھے مگر روحانیت کے فقدان کی وجہ سے اور مغرب کے اعتراضوں سے گھبرا کر اس خیال کے قائل ہو گئے تھے کہ دعا صرف ایک عبادت ہے ورنہ یہ نہیں کہ انسان کی دعا قبولیت کی صورت میں کوئی نتیجہ پیدا کرتی ہو۔