سلسلہ احمدیہ — Page 15
۱۵ میں اس مسجد کی تعمیر کی کہ جو اس جگہ کی جامع مسجد ہے اور وصیت کی کہ مسجد کے ایک گوشہ میں میری قبر ہو۔تا خدائے عزوجل کا نام میرے کان میں پڑتا رہے۔کیا عجب کہ یہی ذریعہ مغفرت ہو۔“ اے اسی زمانہ میں جبکہ آپ کے والد ماجد کی وفات کا زمانہ بہت قریب تھا آپ کو خواب میں بتایا گیا کہ دین کی راہ میں ترقی کرنے اور انوار سماوی کی پیشوائی کے لئے روزے رکھنے بھی ضروری ہیں۔چنانچہ یہ خدائی اشارہ پاکر آپ نے نفلی روزے رکھنے شروع کئے اور آٹھ نو ماہ تک مسلسل روزے رکھے یہ روزے ان روزوں کے علاوہ تھے جو اسلام نے سال میں ایک مہینہ کے لئے فرض کئے ہیں۔ان روزوں کے ایام میں آپ نے اپنی خوراک کو آہستہ آہستہ اس قدر کم کر دیا کہ بالآ خر آپ دن رات میں صرف چند تولے خوراک پر اکتفا کرتے تھے۔چنانچہ جیسا کہ آپ کو قبل از وقت بتایا گیا تھا ان ایام میں آپ پر بہت سے انوار سماوی کا انکشاف ہوا اور بعض گذشتہ انبیاء اور اولیاء سے بھی کشفی حالت میں ملاقات ہوئی۔نیز اس طویل روزہ کشی اور خوراک کم کر دینے کے نتیجہ میں آپ کو یہ فائدہ بھی پہنچا کہ آپ کا جسم مشقت اور بھوک اور پیاس کا غیر معمولی طور پر عادی ہو گیا اور آپ کی روح کو اس کے سفلی علائق کے کمزور ہو جانے کی وجہ سے ایک فوق العادت جلا حاصل ہو گئی۔تاہم آپ نے لکھا ہے کہ میں عوام الناس کے لئے سخت مجاہدات اور ریاضات کے طریق کو پسند نہیں کرتا کیونکہ ان باتوں سے بعض اوقات کمزور طبیعت کے لوگوں کو نقصان پہنچ جاتا ہے اور ناقص قومی والے لوگ بسا اوقات خطرناک بیماریوں میں مبتلاء ہو جاتے ہیں پس آپ نے لکھا ہے کہ عام لوگوں کو اس طریق سے پر ہیز کرنا چاہئے۔۲ والد کی وفات اور خدائی کفالت :۔آپ کے والد صاحب کی وفات ۱۸۷۶ء میں ہوئی اور وہ اپنی وصیت کے مطابق اس مسجد کے ساتھ والی زمین مین دفن کئے گئے جو انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں تعمیر کرائی تھی اور جواب مسجد اقصی کہلاتی ہے۔۳۔جس دن آپ کے والد صاحب کی ل کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۸۷ تا ۱۹۱ حاشیه ۲ تلخیص از کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۹۷۔۱۹۸ حاشیہ بعد میں مسجد کے وسیع ہونے پر یہ قبر والی جگہ بھی مسجد میں شامل ہو چکی ہے مگر قبر اسی طرح قائم ہے اور اسے ایک پختہ چار دیواری کے ذریعہ محفوظ کر دیا گیا ہے۔