سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 226 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 226

۲۲۶ کیا ہے اور اس گندی عادت کو جڑ سے اکھیڑ نے کا حکم دیا ہے۔اسی طرح شراب کے استعمال سے فضول خرچی کی طرف میلان پیدا ہوتا ہے اور کئی لوگ محض اسی عادت کی وجہ سے اپنے ذرائع سے زیادہ خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔یہی حال جوئے کا ہے جسے اسلام نے ممنوع قرار دیا ہے کیونکہ وہ ایک اتفاق کی کھیل ہے جس میں انسان کی کسی محنت یا ہنر کا دخل نہیں ہوتا۔اور اگر انسان کو ایسی باتوں میں پڑنے کی اجازت دی جاوے تو وہ حلال اور محنت کی روزی کمانے کی بجائے اپنے وقت کو بیہودہ طور پر ضائع کرنے کا عادی ہو جاتا ہے اور مال کی ناواجب طمع پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح اسلام نے قتل، چوری، ڈاکہ، فساد جھوٹ ، دغا ، خیانت، بدنظری ، زنا، رشوت وغیرہ سے منع کیا ہے اور راستی ، دیانت ، وفاداری ،انصاف امن پسندی، غرباء پروری، ادب اور شفقت و غیرہ کی تعلیم دی ہے اور ان اخلاق کی ایسی تفاصیل بیان کی ہیں جو کسی دوسرے مذہب میں نہیں پائی جاتیں مگر افسوس ہے کہ اس جگہ زیادہ تفصیلی بیان کی گنجائش نہیں ہے۔ایک حکم اسلام میں پردہ اور غض بصر کا ہے یعنی مسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جب کوئی عورت ایسے اجنبی لوگوں کے سامنے آئے جن کے ساتھ اس کا قریبی رشتہ نہیں ہے تو وہ اپنی زینت کو چھپا کر رکھے اور غیر محرم مرد و عورت دونوں ایک دوسرے کے سامنے اپنی نظروں کو نیچا رکھیں اور ایک دوسرے کی طرف بے حجابانہ اور آزادانہ نظر نہ اٹھائیں کیونکہ اس طرح بسا اوقات دل میں ناپاک خیالات پیدا ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔بے شک بعض خاص لوگ ایسے ہو سکتے ہیں جن کے دل میں ناپاک خیالات پیدا نہیں ہوتے لیکن چونکہ قانون کی بنیاد کثرت پر ہے اس لئے اسلام نے اس حکیمانہ حکم کے ذریعہ بدی کی جڑ کو کاٹنے کی کوشش کی ہے اور دنیا کا تجربہ بھی یہی بتا تا ہے کہ مرد عورت کا آزادانہ میل جول اکثر صورتوں میں خراب نتیجہ پیدا کرتا ہے مگر با وجود پردہ کی حد بندی کے اسلام نے عورت کو گھر کی چاردیواری کے اندر قید نہیں کیا بلکہ