سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 227 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 227

۲۲۷ اسے اجازت دی ہے کہ زینت کے برملا اظہار سے رکتے ہوئے حسب ضرورت گھر سے نکل کر دین و دنیا کے کاموں میں حصہ لے۔اسلام نے مسلمانوں کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ ان میں سے ایک گروہ ہر وقت تبلیغ میں مصروف رہنا چاہئے۔تاکہ نسلی ترقی کے علاوہ تبلیغ کے ذریعہ بھی قومی ترقی کا رستہ کھلا ر ہے مگر اس حکم میں اصل غرض محض تعداد کی ترقی نہیں بلکہ اس حکم کی اصل بنیاد یہ ہے کہ جو صداقت اسلام کے ذریعہ مسلمانوں کو حاصل ہوئی ہے وہ دوسروں تک بھی پہنچائی جائے اور اسلام کے نور سے دوسروں کو بھی منور کیا جاوے تا کہ خدا کے بھٹکے ہوئے بندے پھر خدا کے رستہ پر آجائیں۔اس تبلیغ میں کوئی قومی یا نسلی امتیاز نہیں بلکہ ہر شخص اسلام کو قبول کر کے وسیع اسلامی اخوت میں برابر کا شریک بن سکتا ہے۔اسلامی نظام حکومت: چونکہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے اس لئے اس نے نظام حکومت کے بارے میں زیادہ تفصیلی دخل نہیں دیا بلکہ چند اصولی ہدایات دے کر تفصیلات کے فیصلہ کو مختلف قوموں اور مختلف ملکوں کے حالات پر چھوڑ دیا ہے۔اصولی ہدایات جو اس بارے میں اسلام نے دی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ حکومت کا اصلی اور طبعی حق جمہور کو حاصل ہے البتہ چونکہ نظام حکومت کو چلانے کے لئے ایک محدود اور مرکزی انتظام کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے لوگوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے میں سے کسی اہل اور قابل شخص کو منتخب کر کے اس کو اپنا امیر بنالیں۔لیکن جب ایک شخص امیر بن جاوے تو پھر سب لوگ اس کی پوری پوری اطاعت کریں۔دوسری طرف امیر کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ حکومت کے معاملہ میں لوگوں سے مشورہ لیتا رہے اور مشورہ کے ساتھ نظام حکومت کو چلا وے۔انسانی پیدائش کی غرض و غایت:۔انسانی پیدائش کی غرض وغایت کے متعلق اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ خدا نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔عبادت سے یہ مراد نہیں کہ انسانی پیدائش