سلسلہ احمدیہ — Page 223
۲۲۳ اس لئے بیماروں اور مسافروں کے لئے یہ سہولت کر دی گئی ہے کہ وہ بیماری اور سفر کی حالت میں روزہ ترک کر کے دوسرے اوقات میں اس کی تلافی کر سکتے ہیں۔تیسری عبادت حج ہے۔اس کے لئے اسلام کا یہ حکم ہے کہ اگر انسان میں جسمانی اور مالی لحاظ سے طاقت ہو اور اس کے لئے رستہ بھی مخدوش نہ ہو تو وہ اپنی عمر میں کم از کم ایک دفعہ مکہ میں جا کر خانہ کعبہ کا طواف اور دوسری مقررہ عبادات سر انجام دے۔کعبہ دنیا کی سب سے پرانی عبادت گاہ ہے اور اس کے ساتھ خدا کے بعض خاص برگزیدہ نبیوں کے واقعات زندگی وابستہ ہیں اور اس کی روایات میں قربانی کا ایک خاص روح پر در عصر پایا جاتا ہے اور پھر مکہ کا شہر آنحضرت ﷺ کا مولد اور مقام بعثت بھی ہے اس لئے عمر بھر میں ایک دفعہ اس مقدس جگہ کی زیارت مقرر کی گئی ہے تا کہ ایک مسلمان کے دل و دماغ میں اس کی قدیم اور مقدس روایات تازہ ہو کر زندگی کا تازہ خون پیدا کر دیں۔حج میں ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ تا اس ذریعہ سے ساری دنیا کے مسلمانوں کو اکٹھے ہو کر آپس میں تعارف پیدا کرنے اور مشترک اسلامی امور میں تبادلہ خیالات کرنے کا موقعہ میسر آتا رہے۔چوتھی عبادت زکوۃ ہے یعنی اسلام نے انسان کے اموال پر ایک خاص شرح کے ساتھ ایک خاص چندہ یا ٹیکس مقرر کر دیا ہے اور اس چندہ کے متعلق یہ ہدایت دی ہے کہ وہ غرباء اور مساکین وغیرہ پر خرچ کیا جاوے۔اس انتظام میں بھی دہری غرض مد نظر ہے ایک تو یہ کہ امراء کو خدا کے رستے میں خرچ کرنے کی عادت پیدا ہو اور وہ اپنے اموال کے استعمال میں بالکل آزاد نہ رہیں۔دوسرے یہ کہ کمزور اور غریب لوگوں کی امداد کا ایک مستقل انتظام قائم ہو جاوے چنانچہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ زکوۃ ایک ایسا ٹیکس ہے جس میں امیروں کی دولت کو کاٹ کر غریبوں کی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے اور اس طرح ملک کی دولت کو سمونے کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔حقوق العباد کے متعلق اسلامی تعلیم : حقوق العباد کے معاملہ میں بھی اسلام نے ایک نہایت اعلیٰ اور وسطی تعلیم دی ہے اور افراد اور اقوام کے درمیان عدل و انصاف کے تر از وکو پوری طرح