سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 222 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 222

۲۲۲ اسلامی عبادات :- عبادات میں اسلام نے چار عبادتوں پر خاص زور دیا ہے یعنی نماز روزہ حج اور زکوۃ۔اسلام میں نماز ایک ایسی اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے جس کی نظیر کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی اور اس کے ارکان بھی ایسے مقرر کئے گئے ہیں کہ جو دعا اور ذکر الہی کی صحیح کیفیت پیدا کرنے میں نہایت درجہ مؤثر ہیں۔یقیناً خدا تعالیٰ کے ساتھ ذاتی تعلق پیدا کرانے میں نماز ایک نہایت اعلیٰ درجہ رکھتی ہے اور اگر اسے پوری شرائط کے ساتھ ادا کیا جاوے تو وہ انسان کے دل کو پاک وصاف کرنے اور اسے خدا کی محبت کا مرکز بنانے میں اکسیر ثابت ہوتی ہے اور انسان کی روحانی ترقی کے لئے ایک بہت بھاری ذریعہ ہے۔اسی لئے اسلام نے دن رات میں پانچ نمازوں کا حکم دیا ہے تا کہ جو زنگ انسان کے دل پر دنیا کے کاموں میں مشغول رہنے کی وجہ سے لگتا رہتا ہے وہ بار بار دھلتا رہے اور خدا تعالیٰ کا تعلق کمزور نہ ہونے پائے۔نماز کے لئے مختلف دعائیں مقرر ہیں جو اس کے مختلف حصوں میں مانگی جاتی ہیں مگر اس بات کی اجازت ہے بلکہ تحریک کی گئی ہے کہ مقررہ دعاؤں کے علاوہ انسان اپنی زبان میں بھی دعائیں مانگے۔نماز کی اصل جگہ مسجد ہے مگر سفر میں یا دوسرے خاص حالات میں کسی صاف جگہ میں نماز ادا کی جاسکتی ہے۔اسی طرح نماز کا اصل طریق یہ ہے کہ جماعت کے ساتھ ادا کی جاوے مگر کسی مجبوری کی وجہ سے منفر دصورت میں بھی ادا کی جاسکتی ہے۔دوسری عبادت روزہ ہے۔یہ عبادت دہری غرض رکھتی ہے ایک تو یہ کہ تا اس ذریعہ سے نفسانی لذات کمزور ہو کر روحانی ترقی کا دروازہ کھلے دوسرے یہ کہ انسان کو بھوک اور تکلیف برداشت کرنے کی عادت پیدا ہو اور وہ اپنے غریب ہم جنسوں کی تکلیف کو سمجھ کر ان کے ساتھ ہمدردی کر سکے۔روزہ میں صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور بیوی کے ساتھ مخصوص تعلقات کرنے سے پر ہیز کیا جاتا ہے۔جن لوگوں نے روزہ کا عملی تجربہ کیا ہے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ انسان کی جسمانی اور اخلاقی اور روحانی اصلاح کے لئے وہ کس قدر مؤثر ہے۔اسلام نے سال میں ایک ماہ کے روزے فرض کئے ہیں لیکن چونکہ روزہ میں ایک پہلو تکلیف اور مشقت کا بھی رکھا گیا ہے