سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 219 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 219

۲۱۹ کا دور ختم ہے لیکن آنحضرت ﷺ کی رسالت ساری دنیا کے لئے تھی اور آپ کا پیغام سارے زمانوں پر وسیع تھا اس لئے آپ کا دور قیامت تک چلے گا اور ختم نہیں ہوگا۔پہلے نبیوں کے دور کو اس لئے محدود رکھا گیا کہ اس وقت تک بنی نوع آدم کی ذہنی اور تمدنی ترقی ابتدائی حالت میں تھی اور نسل انسانی ابھی تک اس درجہ کو نہیں پہنچی تھی کہ اس کے لئے ایک کامل اور آخری شریعت نازل کی جاوے پس اس ماہر ڈاکٹر کی طرح جو بیمار کی حالت کے مطابق نسخہ تجویز کرتا ہے خدا نے اس زمانہ میں الگ الگ قوموں کے لئے وقتی اور عارضی شریعتیں نازل فرما ئیں۔لیکن جب وہ وقت آیا کہ تمام دنیا ایک ملک کے حکم میں آنے لگی اور ان کی ذہنی اور تمدنی ترقی اس نکتہ کو پہنچ گئی کہ وہ ایک کامل اور دائی شریعت کی متحمل ہو سکیں جو ساری قوموں اور سارے زمانوں کے لئے وسیع ہو تو اللہ تعالیٰ نے تمام سابقہ شریعتوں کو منسوخ کر کے ایک مشترک اور کامل شریعت نازل فرما دی مگر اس میں بھی قوموں اور زمانوں کے اختلاف کو کلی طور پر نظر انداز نہیں کیا بلکہ ایک اصولی اشتراک قائم کر کے تفصیلات میں ایسی تعلیم پیش کی جو وقتی اور قومی حالات کے ماتحت مختلف صورتیں اختیار کر سکتی ہے۔مثلاً اسلام نے تعدد ازدواج کی اجازت دی ہے مگر اس بات کا حکم نہیں دیا کہ ہر شخص ضرور ہر حال میں ایک سے زیادہ شادی کرے بلکہ اسے افراد اور قوموں اور ملکوں کے حالات پر چھوڑ دیا ہے کہ ان کے حالات جس بات کے متقاضی ہوں وہ انہیں مناسب قیود کے ماتحت اختیار کر سکتے ہیں اس اصولی تعلیم کے ماتحت اگر کوئی فرد اپنے لئے خاص حالات میں دوسری شادی ضروری خیال کرے مثلاً اس کے اولا دنہ ہو اور وہ حصول اولاد کے لئے دوسری شادی کرنا چاہے یا کوئی قوم جو قلت تعداد کی وجہ سے تباہی کے کنارے پر پہنچ رہی ہو وہ اپنی نسلی ترقی کے لئے تعداد ازدواج کو اختیار کرنا چاہے تو اسلامی تعلیم کے ماتحت اس کے لئے رستہ کھلا ہے اور ان حالات میں کسی دانا عورت کو محض جذبات سے متاثر ہو کر اس ضروری قربانی سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔اسی طرح مثلاً بعض گذشتہ نبیوں کی تعلیم میں صرف انتقام پر زور دیا گیا ہے اور بعض نبیوں کی