سلسلہ احمدیہ — Page 174
۱۷۴ یہ دعوت دی کہ ہم لوگ ایک خدا کی مخلوق ہیں اور ایک ملک میں رہتے ہیں اس لئے یہ آپس کے ناگوار جھگڑے اچھے نہیں اور جھگڑوں کی اصل وجہ ایک دوسرے کے مذہبی پیشواؤں کے متعلق بدزبانی اور بے ادبی کا طریق اختیار کرنا ہے۔پس آؤ کہ ہم اس بنائے فساد کو درمیان سے اٹھا کر آپس میں صلح کر لیں اور محبت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ پیش آئیں اور اس کے لئے آپ نے عملاً یہ تجویز پیش فرمائی کہ آئندہ کے لئے یہ عہد کیا جاوے جس کے توڑنے پر ایک بھاری تاوان مقرر ہو کہ ایک دوسرے کے مذہبی پیشواؤں کو برا نہیں کہا جائے گا بلکہ ان کو اسی عزت اور اسی ادب سے یاد کیا جائے گا جو ایک سچے مذہبی پیشوا کے مقام کے لحاظ سے ضروری ہے اور آپ نے لکھا کہ میں اور میری جماعت جو اس وقت چار لاکھ کے قریب ہے اپنی طرف سے یہ اقرار کرنے کے لئے تیار ہیں کہ ویدوں کے رشی اور بعد میں آنے والے ہندوؤں کے مذہبی بزرگ یعنی حضرت کرشن اور رامچند رجی صاحبان خدا کے برگزیدہ انسان تھے اور ہم ان مقدس ہستیوں کی اسی طرح عزت کریں گے جس طرح ایک صادق اور بچے مامور من اللہ کی کی جاتی ہے اور ان کے متعلق کوئی کلمہ بے ادبی یا گستاخی کا اپنی زبان پر نہیں لائیں گے۔اور اس کے مقابل پر ہند و صاحبان یہ اقرار کریں کہ حضرت محمد رسول اللہ یہ خدا کی طرف سے سچے رسول تھے جو دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کئے گئے اور یہ کہ آئندہ ہند و صاحبان آپ کی اسی طرح عزت کریں گے جس طرح کہ ایک بچے رشی اور اوتار کی کی جاتی ہے۔اور آپ کے متعلق کوئی کلمہ بے ادبی یا گستاخی کا اپنی زبان پر نہیں لائیں گے۔حضرت مسیح موعود نے یہ بھی لکھا کہ اگر ہندو قوم اس قسم کے معاہدہ اور مصالحت کے لئے تیار ہو تو پھر یہ گائے کا جھگڑا بھی درمیان سے اٹھایا جاسکتا ہے کیونکہ مسلمانوں میں گائے حلال ہے یہ نہیں کہ اس کے گوشت کا استعمال ضروری ہے پس اتنے بڑے فائدہ کے مقابل پر یہ بات ترک کی جاسکتی ہے اور آپ نے لکھا کہ ضروری ہوگا کہ اس معاہدہ پر ہر دو فریق کے دس دس ہزار معروف اور بااثر نمائندوں کے دستخط ہوں تا کہ یہ معاہدہ قومی معاہدہ سمجھا جا سکے لیے مگر افسوس ہے کہ ابھی اس لیکچر کے پڑھے جانے کا وقت نہیں آیا تھا کہ خدائی الہام کے مطابق حضرت مسیح موعود اس جہان سے کوچ فرما گئے جس میں غالبا قدرت کا یہ اشار مخفی تھا کہ آپ کی وفات دیکھو تلخیص از لیکچر پیغام صلح، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۵۵ تا ۴۵۸