سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 139 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 139

۱۳۹ حالت میں رہے جس میں آپ کو اپنے دوستوں کے ساتھ ملنے کا زیادہ موقعہ میسر آتا تھا اور کچہری کی حاضری کا وقت بھی گویا اختلاط میں گزرتا تھا اس لئے یہ ایام جماعت کی تربیت کے لحاظ سے بہت مبارک ثابت ہوئے۔گویا یہ زمانہ تبلیغ کی نسبت زیادہ تر تعلیم و تربیت میں خرچ ہوا۔چنانچہ خاکسار مؤلف نے دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے عادات و اخلاق کے متعلق آپ کے اصحاب کی روایات بیشتر طور پر اسی زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔اور ان میں آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب کے ذاتی تعلق اور وابستگی کی ایک خاص جھلک نظر آتی ہے۔مگر دعوت الی الحق کا کام بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا چنانچہ علاوہ اس کے کہ ان ایام میں بھی ملنے والوں کے ساتھ تبلیغ کا سلسلہ جاری رہتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں دو ایسے موقعے پیدا کر دیئے جن میں سلسلہ حقہ کی پوری پوری تبلیغ میسر آ گئی۔یہ واقعات دوسفروں کی صورت میں تھے جو حضرت مسیح موعود نے ۱۹۰۴ء کے نصف آخر میں کئے۔چنانچہ پہلا سفر اگست ۱۹۰۴ء کے آخر میں لا ہور تک کیا گیا۔جہاں آپ قریباً دو ہفتے ٹھہرے۔اس سفر میں بھی جہلم کے سفر کی طرح لوگوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ پولیس کو انتظام مشکل ہو گیا اور جتنے دن آپ لاہور میں ٹھہرے آپ کی فرودگاہ کے قریب متلاشیان اور مخالفین کا ایک بھاری ہجوم رہتا تھا۔متلاشی لوگ آپ کے پاس آتے آپ سے ملتے اور آپ کے سامنے اپنے اعتراضات پیش کر کے فائدہ اٹھاتے تھے اور مخالف لوگ آپ کے قریب آنے کی بجائے آپ کی فرودگاہ کے سامنے مظاہرہ کرتے جلسے منعقد کرتے اور لوگوں کو آپ کے خلاف اکساتے تھے۔انہی ایام میں لوگوں کی خواہش پر آپ کے لئے ۳ رستمبر ۱۹۰۴ء کو ایک پبلک تقریر کا بھی انتظام کیا گیا۔آپ نے اس موقعہ کے لئے ایک مضمون ”اسلام اور اس ملک کے دوسرے مذاہب“ کے عنوان کے ماتحت لکھ کر اسے طبع کرا لیا اور پھر اسے آپ کے ایک مخلص حواری حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے حسب معمول اپنی بلند اور خوبصورت آواز میں پڑھ کر سنایا۔حاضرین کی تعداد باوجود لوگوں کی سخت مخالفت کے سات آٹھ ہزار کے قریب تھی اور جلسہ نہایت کامیاب رہا۔