سلسلہ احمدیہ — Page 125
۱۲۵ اور یہ عہد نامہ جو بیعت کرنے والے کو اپنے سامنے بٹھا کر اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر منہ درمنہ لیا جا تا تھا اس کی بعد کی تعلیم و تربیت کے لئے ایک پختہ بنیاد بن جاتا تھا اور بیعت میں داخل ہونے کے ساتھ ہی وہ اپنے اندر ایک ایسی تبدیلی محسوس کرتا تھا جو اسے بعد میں ہر لحظہ طہارت اور پاکیزگی اور اصلاح نفس کی بلندیوں کی طرف اٹھاتی چلی جاتی تھی۔یہ درست ہے کہ بعض اوقات جب کسی شخص کو خود حاضر ہو کر دستی بیعت کا موقعہ نہ مل سکتا ہو تو خط کے ذریعہ تحریری بیعت کا رستہ بھی کھلا تھا مگر یہ تحریری بیعت بھی بہر حال ایک عہد اور اقرار کا رنگ رکھتی تھی جس کے بعد ہر بیعت کنندہ یہ محسوس کرتا تھا کہ اب مجھے زندگی کا ایک نیا ورق الٹنا چاہئے۔پس تعلیم و تربیت کا پہلا ذریعہ وہ عہد اور وہ اقرار تھا جو بیعت کرنے والے سے ذاتی طور پر لیا جاتا تھا جس کے بعد ہر بیعت کنندہ گویا خود اپنے اعمال کا نگران اور محاسب ہو جاتا تھا۔حضرت مسیح موعود ا کثر فرمایا کرتے تھے کہ بیعت کے معنی اپنے آپ کو فروخت کر دینے اور اپنے مرشد کے ہاتھ پر بک جانے کے ہیں۔پس جو شخص بیعت کے بعد کوئی رنگ دُوئی کا رکھتا ہے اور اپنے آقا کے ساتھ کامل اتحاد و اتصال پیدا نہیں کرتا وہ اپنے عہد میں سچا نہیں ہے۔دوم دوسرا بڑا ذریعہ آپ کا یہ تھا کہ آپ ہمیشہ تحریر اور تقریر کے ذریعہ اپنی جماعت کے لوگوں کو ان کے غلط خیالات کی اصلاح اور خراب اور ناپسندیدہ اعمال کی درستی کی طرف توجہ دلاتے رہتے تھے اور ان کے دلوں میں خدا کے ساتھ تعلق پیدا کرنے اور اپنے نفسوں کی اصلاح کرنے اور مخلوق کے ساتھ انصاف اور احسان کا معاملہ کرنے کے لئے جوش پیدا کرتے رہتے تھے اور آپ کی یہ عادت تھی کہ اپنی جماعت کے لوگوں کے خیالات اور ان کے اعمال کو گہری نظر کے ساتھ دیکھتے رہتے تھے اور ان کی کمزوریوں اور نقصوں کے مناسب حال اپنی تحریر و تقریر میں نصیحت کا طریق اختیار فرماتے تھے۔مگر عموماً آپ کسی فرد کو مخاطب کر کے اور اس کے کسی نقص کی طرف اشارہ کر کے نصیحت نہیں فرماتے تھے بلکہ جب کسی فرد یا افراد میں کوئی نقص دیکھتے تو اس کا یا ان کا نام لینے کے بغیر عمومی رنگ میں نصیحت فرماتے تھے۔زبانی نصیحت کے لئے آپ عموماً پنجگانہ نماز کے موقعہ سے فائدہ اٹھاتے تھے یعنی آپ کا یہ