سلسلہ احمدیہ — Page 124
۱۲۴ ایک ہی ہوا گر چہ بظاہر دو نظر آتے ہیں۔صرف ظل اور اصل کا فرق ہے۔سوالیسا ہی خدا نے مسیح موعود میں چاہا۔میں روحانیت کی رو سے اسلام میں خاتم الخلفاء ہوں جیسا کہ مسیح ابن مریم اسرائیلی سلسلہ کے لئے خاتم الخلفاء تھا۔موسیٰ کے سلسلہ میں ابن مریم مسیح موعود تھا اور محمدی سلسلہ میں میں مسیح موعود ہوں۔۔۔مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔بد قسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔‘] حضرت مسیح موعود کا تعلیم و تربیت کا طریق:۔گذشتہ صفحات میں ان ظاہری اور باطنی طاقتوں کا ذکر گزر چکا ہے جو حضرت مسیح موعود کی طرف سے تبلیغی میدان میں زیر عمل آ رہی تھیں۔اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ ان ذرائع کو بھی بیان کر دیا جائے جو آپ اپنی جماعت کی اخلاقی اور روحانی اور علمی اور عملی تربیت کے لئے اختیار فرماتے تھے۔اس ضمن میں اصولی طور پر تو صرف اس قدر جاننا کافی ہے کہ آپ کا طریق وہی تھا جو ہمیشہ سے خدا کے رسولوں اور نبیوں کا رہا ہے وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ آپ اپنی جماعت کی تعلیم و تربیت کے لئے ظاہری اور روحانی اسباب ہر دو کو استعمال فرماتے تھے۔ان اسباب کا مختصر خاکہ یہ ہے کہ:۔اوّل جب آپ کسی شخص کو اپنی جماعت میں داخل کرنے لگتے تھے تو اس کی طرف سے صرف اس بات کے عمومی اظہار کو کافی خیال نہیں فرماتے تھے کہ میں نے آپ کو قبول کر لیا ہے بلکہ ایک با قاعدہ اقرار کے ذریعہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر یہ عہد لیتے تھے کہ میں آپ کے دعووں پر ایمان لاتے ہوئے اپنے گزشتہ گناہوں سے تو بہ کرتا ہوں اور آئندہ کے لئے وعدہ کرتا ہوں کہ ہر قسم کے گناہ سے بچنے کی کوشش کروں گا اور ہر معاملہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا وغیرہ وغیرہ۔یہ اقرار کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۵ تا ۲۳ وصفحه ۶۱۔