سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 87 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 87

۸۷ در دل من آں محبت دیده کر جہاں آں راز را پوشیده با من از روئے محبت کارکن اند کے افشاء آں اسرار کن اے کہ آئی سوئے ہر جوینده واقفی از سوز زاں تعلق با که با تو داشتم ہا ہر سوزنده زاں محبت ہا کہ در دل کاشتم خود بروں آ از پئے ابراء من اے تو کہف و ملجاء وماوائے من آتش کاندر دلم افروختی وز دم آن غیر خود را سوختی ہم ازاں آتش رخ من بر فروز ویں شب تارم مبدل کن بروز د یعنی اے میرے قادر۔زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے خدا! اے میرے رحیم اور مہربان اور مشکلات کی تاریکی میں رستہ دکھانے والے آقا ! اے دلوں کے بھیدوں کے جاننے والے جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں! اگر تو مجھے شر اور فسق وفساد سے بھرا ہوا پاتا ہے اور اگر تو یہ دیکھتا ہے کہ میں ایک بدطینت اور گندہ آدمی ہوں تو اے خدا تو مجھے بدکار کو پارہ پارہ کر کے ہلاک و برباد کر دے اور میرے مخالف گروہ کے دلوں کو خوشی اور راحت بخش اور ان پر اپنی رحمت کے بادل برسا اور ان کی ہر مراد کو اپنے فضل سے پورا کر۔اور میرے درودیوار پر اپنے غضب کی آگ نازل کر اور میرا دشمن بن کر میرے اس کاروبار کو تباہ و برباد کر دے۔لیکن اے میرے آقا ! اگر تو مجھے اپنے بندوں میں سے سمجھتا ہے اور اپنے آستانہ کو میری توجہ کا قبلہ پاتا ہے اور میرے دل میں اس محبت کو دیکھتا ہے جو تو نے دوسروں کی نظروں سے پوشیدہ کر رکھی ہے تو اے میرے خدا تو میرے ساتھ محبت کا معاملہ کر اور اس چھپے ہوئے راز کو ذرا ظاہر ہونے دے۔اے وہ کہ جو ہر تلاش کرنے والے کی طرف خود چل کر آتا ہے اور اے وہ کہ جو ہر سوز محبت میں جلنے والے کی سوزش قلب سے آگاہ ہے میں تجھے اس تعلق کا واسطہ دے کر کہتا ے حقیقة المهدی، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۳۴