سلسلہ احمدیہ — Page 62
۶۲ میں دیکھتے ہیں کہ قرآنی تعلیم کی رو سے حضرت مسیح موعود کا یہ عقیدہ تھا کہ چونکہ خدا کسی ایک ملک یا ایک قوم کا خدا نہیں بلکہ ساری دنیا کا خدا ہے اور وہ مختلف زمانوں میں مختلف قوموں کی طرف رسول بھیجتا رہا ہے اور یہ سلسلہ رسالت بالآخر مقدس بانی اسلام میں آ کر اپنے کمال کو پہنچا ہے اس لئے آنحضرت ﷺ سے پہلے جس جس نبی یا مصلح یا اوتار کا سلسلہ قائم ہو چکا تھا اور دنیا کے ایک معتد بہ حصہ میں اسے قبولیت حاصل ہو چکی تھی وہ خدا کی طرف سے سمجھا جائے گا کیونکہ جس مدعی رسالت کو اللہ تعالیٰ وسیع قبولیت عطا کر دے اور لاکھوں انسان اس کی صداقت پر ایمان لے آئیں اور اس کا سلسلہ دنیا میں راسخ اور قائم ہو جائے وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا کیونکہ خدا ایک جھوٹے مدعی کو ایسی قبولیت عطا نہیں کرتا جس سے بچے اور جھوٹے میں امتیاز اٹھ جاوے۔اس طرح گویا آپ نے ان جملہ بانیان مذاہب کی صداقت کو تسلیم کر لیا جو آنحضرت ﷺ سے پہلے گزرے ہیں۔اس کے بعد دنیا کی مشہور قوموں میں سے صرف ایک سکھ قوم باقی رہ گئی جس کے بانی آنحضرت ﷺ کے بعد ہوئے ہیں۔سو انہیں آپ نے ایک مسلمان ولی ثابت کر کے دوستوں کی صف میں کھینچ لیا اور اس طرح ایک وسیع بین الاقوام امن اور اخوت کی بنیاد قائم کر دی۔چنانچہ احمد یہ جماعت جہاں یہودیوں اور مسیحیوں کے مقدس رسولوں پر ایمان لاتی ہے وہاں ہندوؤں کے حضرت کرشن اور بدھ مذہب والوں کے گوتم بدھ اور پارسیوں کے زرتشت اور چینیوں کے کنفیوشس کی رسالت پر بھی یقین رکھتی ہے اور اسی طرح سکھ مذہب کے بانی حضرت بابا نانک صاحب کو ایک پارسا اور نیک اور صالح بزرگ خیال کرتی ہے۔پس بابا صاحب کے متعلق حضرت مسیح موعود کی تحقیق دہرا نتیجہ پیدا کر رہی ہے۔یعنی ایک طرف تو وہ مسلمانوں کے دلوں میں بابا صاحب کی عزت کو بڑھاتی ہے اور دوسری طرف وہ سکھوں کو یاد دلاتی ہے کہ ان کے گھر کا چراغ بھی نور محمدی سے روشنی حاصل کرنے والا ہے۔مگر افسوس ہے کہ ابھی تک دنیا نے ان نکتوں کو سمجھا نہیں۔مخالفین کا نام لے کر مباہلہ کا چیلنج :۔حضرت مسیح موعود کی مخالفت کا آغاز ۱۸۹۱ء میں ہوا تھا