سلسلہ احمدیہ — Page 54
۵۴ تاریکی کو دور کر دے گا۔چنانچہ آپ نے سرسید مرحوم کو مخاطب کر کے فرمایا:۔اے کہ گوئی گردعا ہارا اثر بودے کجا است سوئے من بشتاب بنمائم ترا چوں آفتاب ہاں مکن انکار زیں اسرار قدرت ہائے حق قصہ کو نہ کن ہیں از ما دعائے مستجاب لے و یعنی اے وہ صاحب جو یہ فرما ر ہے ہو کہ اگر دعا میں کوئی اثر ہوتا ہے تو وہ کہاں ہے آپ جلدی سے میری طرف آجائیں میں آپ کو آفتاب کی طرح دعا کا اثر دکھا دوں گا۔ہاں ہاں خدا کی قدرتوں کے مخفی اسرار سے انکار نہ کرو کیونکہ خدا کے اسرار کو خدا کے بندے ہی سمجھتے ہیں اور اگر آپ کو انکار پر اصرار ہے تو لمبی بحث کی ضرورت نہیں آئیں اور میری طرف سے اس دعا کا نتیجہ دیکھ لیں جس کے متعلق مجھے خدا نے بتایا ہے کہ وہ قبول ہو چکی ہے۔اور آپ نے اس شعر پر یہ نوٹ لکھا کہ اس دعا سے وہ دعا مراد ہے جو میں پنڈت لیکھرام کے متعلق کر چکا ہوں جس کے نتیجہ میں مجھے خدا کی طرف سے یہ بتایا گیا ہے کہ پنڈت لیکھرام جو اسلام کی عداوت میں کھڑا ہے چھ سال کے عرصہ میں عید کے دوسرے روز عذاب الیم میں مبتلا ہو جائے گا۔اب خدا کی قدرت کا تماشہ دیکھو کہ مقررہ میعاد کے اندر اندر یعنی ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء کو عین عید کے دوسرے روز پنڈت لیکھر ام اس جہان سے رخصت ہوئے اور حضرت مسیح موعود نہ صرف ہر قسم کی آفت اور نقصان سے محفوظ رہے بلکہ خدا نے آپ کو اس عرصہ میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی نصیب کی اور پھر لطف یہ ہے کہ خدا نے سرسید مرحوم کو بھی اس وقت تک زندہ رکھا کہ وہ اس ’’دعائے مستجاب“ کو اپنی آنکھوں سے پورا ہوتا دیکھ لیں۔عربی میں مقابلہ کی دعوت :۔حضرت مسیح موعود کی تعلیم کے بیان میں یہ ذکر گزر چکا ہے کہ آپ نے اپنی ابتدائی عمر میں بعض پرائیویٹ استادوں سے عربی کا علم سیکھا تھا مگر یہ تعلیم محض ایک ابتدائی رنگ رکھتی تھی اور مروجہ تعلیم کے ابتدائی مرحلہ سے متجاوز نہیں تھی اور یہ علم بھی آپ نے گھر پر رہ کر سیکھا تھا اور کسی مرکزی شہر میں جا کر تحصیل علم نہیں کی تھی اس لئے بظاہر حالات آپ کی علمی استعداد بہت معمولی لے دیکھو کتاب برکات الدعا۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳