سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 52 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 52

۵۲ چاہئے کہ جو پیشگوئیاں کی گئی ہیں ان میں خدائی علم اور خدائی قدرت کا ہاتھ نظر آئے اور وہ انسانی علم اور انسانی قدرت سے بالا رنگ رکھتی ہوں۔دوسرا نکتہ آپ نے یہ بیان کیا کہ جو پیشگوئیاں وعید کا رنگ رکھتی ہوں یعنی ان میں کسی فرد یا جماعت یا قوم کے متعلق عذاب کی خبر دی گئی ہو وہ ہمیشہ دوسرے فریق کی شرارت اور شوخی کے ساتھ مشروط ہوتی ہیں اور اگر دوسرا فریق ڈر کر دب جائے یا خائف ہو کر تو بہ کا طریق اختیار کرے تو پھر ایسی پیشگوئیاں ٹل جاتی ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ بہت رحیم و کریم ہے اور اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے اور یہ بات اس کی شان سے بعید ہے کہ ایک گرے ہوئے دشمن یا تو بہ کے ساتھ جھکنے والے انسان پر ہاتھ اٹھائے جیسا کہ وہ قرآن شریف میں بھی فرماتا ہے کہ ہم استغفار کرنے والے بندہ پر عذاب نازل نہیں کرتے لے پس آپ نے فرمایا کہ وعید والی پیشگوئیوں میں خواہ تو بہ وغیرہ کی شرط صراحتاً مذکور ہو یا نہ ہو وہ لازماً اس اصولی شرط کے ساتھ مشروط ہوتی ہیں کہ تو بہ اور استغفار سے خدا کا عذاب ٹل جاتا ہے۔ایک اور لطیف تصنیف اور قبولیت دعا کا مسئلہ :۔اس زمانہ میں مغربی محققین اور مسیحی پادریوں کے اعتراضوں سے تنگ آکر مسلمانون کی عجیب حالت ہو رہی تھی۔ان میں سے ایک طبقہ تو عیسائیت کی طرف مائل ہو رہا تھا اور دوسرا کھلم کھلا مذہب کو خیر باد کہہ کر دہریت کا شکار ہوتا جارہا تھا مگر ایک تیسرا درمیانی طبقہ بھی تھا جو اسلام کی محبت یا عام قومی بیچ میں اسلام کو چھوڑنے کے لئے تو تیار نہیں تھا مگر مغربی اعتراضوں سے تنگ آکر وہ اسلامی مسائل کی ایسی ایسی تاویلیں کر رہا تھا کہ جس سے اسلام کی شکل وصورت ہی مسخ ہو رہی تھی۔اس مؤخر الذکر طبقہ کے لیڈر سر سید احمد خان صاحب بانی علی گڑھ کالج تھے انہیں اسلام سے محبت تھی اور مسلمانوں کو تباہی سے بچانا چاہتے تھے مگر چونکہ سید صاحب روحانی اور مذہبی آدمی نہیں تھے اس لئے اسلامی مسائل کی ایسی ایسی تاویلیں کر رہے تھے جو اسلام کی تعلیم کے بالکل خلاف تھیں۔ان کی مدافعت کی پالیسی بالکل یہ رنگ رکھتی تھی کہ مثلاً کوئی شخص دوسرے پر حملہ کر الانفال: ۳۴