سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 38 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 38

۳۸ پڑھنے کی باری آئی تو اس نے ان لوگوں کو باہر نکال کر حضرت مسیح موعود سے مطالبہ کیا کہ آپ مسیح ہونے کے مدعی ہیں سو لیجئے یہ چند بیمار حاضر ہیں انہیں ہاتھ لگا کر اچھا کر دیجئے اور پھر سب لوگ ہنسنے لگے اور بعض حاضر المجلس احمدی بھی گھبرائے کہ خواہ علمی لحاظ سے اس کا جواب دے دیا جائیگا مگر بظاہر صورت فریق مخالف کو ایک ہنسی کا موقعہ مل گیا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود بڑے اطمینان کے ساتھ خاموش بیٹھے رہے۔پھر جب آپ کی باری آئی تو آپ نے فرمایا کہ میں تو اس رنگ میں حضرت مسیح ناصری کے ان معجزوں کا قائل نہیں ہوں اور ان کے وہ معنی نہیں سمجھتا جو عیسائی صاحبان سمجھتے ہیں اور میں اپنی ذات کے لئے بھی اس بات کا مدعی نہیں کہ میں خود اپنی مرضی سے جب چاہوں کسی بیمار کو ہاتھ لگا کر اچھا کر سکتا ہوں اس لئے مجھ سے اس قسم کا مطالبہ جو میرے مسلمات کے خلاف ہے نہیں ہو سکتا۔ہاں بے شک انجیل میں حضرت مسیح ناصری نے اپنے متبعین کوضرور یہ فرمایا ہے کہ اگر تم میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہو تو تم قدرت کے خزانوں کے مالک بن سکتے ہو اور پہاڑوں کو حکم دے کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا سکتے ہو اور کوئی بات تمہارے سامنے انہونی نہیں رہ سکتی ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ مسیحی حضرات جو یہاں جمع ہیں اپنے مسیح پر ضر ور سچا ایمان رکھتے ہیں اور آپ لوگوں کا ایمان رائی کے دانے سے تو بہر حال بڑا ہو گا پس میں آپ کا ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے بیماروں کے جمع کرنے کی زحمت سے بچا لیا اب لیجئے یہی آپ کا مہیا کردہ تحفہ حاضر ہے انہیں ذرا ہاتھ لگا کر اپنے ایمان کا ثبوت دیجئے۔دیکھنے والے کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کے اس جواب نے مسیحیوں کو بالکل مبہوت کر دیا اور وہ سخت گھبرا کر ان بیماروں کو ادھر ادھر چھپانے لگ گئے اور یہ ساری کھیل الٹ کر خود انہی پر آ گئی اور جس بات کو انہوں نے اپنی فتح خیال کیا تھا وہ ایک خطر ناک شکست کی صورت میں بدل گئی۔کے الغرض اس ابتدائی زمانہ میں آپ کو بہت سے مناظرات کرنے پڑے اور خدا کے فضل سے ہر مناظرہ میں آپ کو نمایاں کامیابی نصیب ہوئی۔علم کلام کے دو زریں اصول:۔ان مناظرات میں آپ نے اسلام کے اندرونی اختلافات ل متی باب ۱۷ آیت ۲۰ ولوقا باب ۱۷-۲ دیکھو جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۵۴۷۱۵۳ و سیرة المهدی