سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 427 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 427

۴۲۷ سے زیادہ اہم ہےاور ہم بھی خدا کے فضل سے اس سوال کا جواب زیادہ تعین کے ساتھ دے سکتے ہیں۔اس تعلق میں یہ جاننا چاہئے کہ طبعا اور قدرتی طور پر جماعت احمدیہ کی سب سے بڑی تعداد پنجاب میں ہے جس کے اضلاع گورداسپور اور سیالکوٹ اور ہوشیار پور اور گجرات دوسروں سے پیش پیش ہیں۔اس کے بعد خدا کے فضل سے ہندوستان کے ہر صوبہ میں احمدی پائے جاتے ہیں۔مگر بنگال اور صوبہ سرحد میں جماعت کی تعداد نسبتا زیادہ ہے اور باقیوں میں کم اور غالباً سب سے کم تعداد صوبجات متوسط میں ہے۔ہندوستانی ریاستوں میں پنجاب کی وسطی ریاستوں اور ریاست کشمیر اور ریاست حیدرآباد دوسروں سے آگے ہیں اور باقیوں میں تعداد کم ہے۔ہندوستان سے باہر غالبا سب سے بڑی تعداد مغربی افریقہ میں ہے اور اس کے بعد جزائر شرق الہند میں۔مگر افغانستان میں بھی امید کی جاتی ہے کہ اچھی تعداد ہوگی گو اس کے متعلق کوئی بات یقینی طور پر نہیں کہی جاسکتی۔ان کے علاوہ مشرقی افریقہ۔جزیرہ ماریشس۔سیلون۔برما۔مصر وفلسطین۔انگلستان اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں تھوڑی تھوڑی جماعتیں پائی جاتی ہیں۔یعنی کسی میں کم اور کسی میں زیادہ۔بلکہ ان علاقوں سے باہر بھی احمدی موجود ہیں مگر ان کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔حضرت مسیح موعود کے عالمگیر مشن کے مقابلہ پر یہ وسعت آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں اور ہم اس کمی کو اچھی طرح محسوس کرتے ہیں مگر یہ احساس ہمیں اپنی نظروں میں چھوٹا کر کے نہیں دکھا تا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس وقت ہماری حالت محض ایک بیج کی ہے پس یہ احساس ہمارے لئے سبکی کا موجب نہیں بلکہ ہمارے فرائض کو یاد دلا کر ایک تازیانہ کا کام دیتا ہے۔اپنے غیر احمدی اور غیر مسلم ناظرین سے ہم صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ جب وہ ہماری اس ابتدائی حالت پر نگاہ ڈالیں تو اس کے مقابلہ کے لئے اقوام عالم کی موجودہ حالت کو نہ دیکھیں۔بلکہ ان قوموں کے آغاز کو دیکھیں۔مثلاً وہ مسیحیت کی موجودہ وسعت کی بجائے آج سے انیس سو سال پہلے جا کر اس نظارہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے لائیں کہ جب یہودی لوگ حضرت مسیح کو پکڑ کر صلیب پر