سلسلہ احمدیہ — Page 422
۴۲۲ جماعت احمدیہ کا نظام الحمد للہ کہ ہم خلافت ثانیہ کے مبارک عہد کے مبارک حالات سے فارغ ہو کر اب اپنی کتاب کے آخری حصہ میں قدم رکھ رہے ہیں۔اس آخری حصہ میں صرف تین مختصر سی باتیں کہنے والی ہیں کیونکہ ان کے بغیر کی تصویر جو ہمارا اصل موضوع ہے مکمل نہیں ہوتی۔یہ تین باتیں (۱) جماعت احمدیہ کے نظام اور (۲) اس کی موجودہ وسعت اور (۳) اس کے مستقبل سے تعلق رکھتی ہیں۔سو جماعت کے نظام کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ سلسلہ احمد یہ منہاج نبوت پر قائم ہے اس لئے اصولی رنگ میں اس کا وہی نظام ہے جو ہر الہی سلسلہ کا ہوا کرتا ہے اور وہ نظام یہی ہے کہ جب خدا تعالیٰ ایک نبی کے ذریعہ کسی سلسلہ کی بنیا درکھتا ہے تو اسکے بعد وہ جب تک مناسب اور ضروری سمجھتا ہے اس نبی کے متبعین میں سے اس کے خلفاء قائم کر کے اس سلسلہ کو ترقی دیتا ہے ان خلفاء کو جملہ اہم امور میں جماعت سے مشورہ لینے کا حکم ہوتا ہے مگر چونکہ ان کا اصل سہارا خدا کی نصرت پر ہوتا ہے اس لئے وہ اس مشورہ کے پابند نہیں ہوتے بلکہ جس طرح خدا ان کے دل میں ڈالتا ہے جماعت کے کام کو چلاتے ہیں۔دراصل خلفاء کو اپنے روحانی منصب کی وجہ سے یہ حکم ہوتا ہے کہ ہر بات میں خدا کی طرف نظر رکھیں اور اسی کی مدد پر بھروسہ کریں۔گویا ان کا مقام تو کل کا مقام ہوتا ہے لیکن اگر انہیں لوگوں کے مشورہ کا پابند کر دیا جائے اور وہ دوسروں کی رائے پر چلنے کے لئے مجبور ہوں تو اس پابندی اور اس مجبوری کے ساتھ ہی تو کل کا خیال دھو آں ہو کر اڑ جاتا ہے اسی لئے قرآن شریف نے تو کل کو مشورہ کے مقابل پر رکھ کر بیان کیا ہے اور فرمایا ہے کہ مشورہ تو ضرور لو۔مگر آخری فیصلہ خدا کی نصرت پر بھروسہ کرتے ہوئے خود کرو تا کہ تو کل کے مقام پر قائم رہ سکو۔بہر حال خلفاء جماعت کے مشورہ کو قبول کرنے کے پابند نہیں ہوتے مگر خود ان کا حکم جماعت کے لئے واجب التعمیل ہوتا ہے۔پس مختصر طور پر تو یہی جماعت احمدیہ کا نظام ہے اور ہمارے نظام کا مستقل حصہ صرف اسی حد تک محدود ہے اور