سلسلہ احمدیہ — Page 411
۴۱۱ والے فتنوں کے متعلق بھی ہمارا امام ہمیں بتاتا ہے کہ ابھی اپنے آپ کو امن میں نہ سمجھو کیونکہ یہ ایک وقتی سکون ہے اور میں دور کی افق میں اب بھی بادلوں کی گرج اور بجلیوں کی کڑک سن رہا ہوں۔بہر حال ان فتنوں کی لہر اٹھی اور اب دلی ہوئی ہے مگر تحر یک جدید ایک مستقل چیز تھی اور ٹھہرنے کے لئے آئی ہے۔حضرت خلیفہ مسیح نے اس جدید نظام کو مذکورہ بالا فتنہ کے آغاز میں ہی جماعت کے سامنے پیش کر دیا تھا اور فرما دیا تھا کہ فتنہ ٹھہرے یا جائے یہ چیز بہر حال ٹھہرے گی اور جماعت کا آئندہ قدم اسی بنیاد پر اٹھے گا چنانچہ آج پانچ سال گزر رہے ہیں کہ جماعت اس رستہ پر گامزن ہے۔یہ رستہ کیا ہے؟ اول جماعت کی عملی اور اخلاقی اور دینی تربیت کا ایک نیا پروگرام جس میں سادہ زندگی۔معمور الاوقات زندگی۔قربانی کی زندگی اور روحانی وسائل کا بیش از پیش استعمال نمایاں ہے۔مثلاً سوائے خاص موقعوں کے ایک سے زیادہ کھانا نہ کھاؤ۔سینما اور تھیٹر نہ دیکھو۔بریکار نہ رہو اور اگر کام نہ ملے تو اپنے وقت کو دین کی خدمت میں لگا دو۔ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالو اور کسی جائز کام کو بھی اپنے شان کے خلاف نہ سمجھو۔حقیقی ضرورت کےسوالباس اور زیورات میں روپیہ نہ ضائع کرو۔اپنے اخراجات کو کم کرو اور دینی اور جماعتی ضروریات کے لئے زیادہ سے زیادہ روپیہ بچاؤ۔رمضان کے علاوہ بھی روزے رکھو۔اور دعاؤں کو ایک زندہ چیز سمجھ کر خدا کے آستانہ پر گرے رہو وغیرہ وغیرہ۔دوم جماعت کی تبلیغ کا ایک عالمگیر پروگرام جس میں ہندوستان کے مختلف حصوں کی تبلیغ۔جملہ بیرونی ممالک کی تبلیغ۔آنریری کارکنوں کے ذریعہ تبلیغ تنخواہ دار مبلغوں کے ذریعہ تبلیغ۔خاص خاص علاقوں میں تبلیغ کی پر زور مہم اور تبلیغ کے لئے مختلف علاقوں کی سروے وغیرہ شامل ہیں۔مثلاً ملازم پیشہ لوگ