سلسلہ احمدیہ — Page 31
۳۱ انہی کی روحانی صفات سے متصف ہو کر آئے ہیں تو اس پر مسلمانوں اور عیسائیوں کو طبعاً ایک سخت دھکا لگا اور انہوں نے اپنے ہوائی قلعوں کو خاک میں ملتا دیکھ کر آپ کے خلاف اپنے اپنے رنگ میں مخالفت کا طوفان کھڑا کر دیا اور یہ مخالفت طبعا مسلمانوں میں زیادہ تھی کیونکہ آپ نے اسلام کے اندر ہو کر مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور مسلمان ہی آپ کے پہلے مخاطب تھے چنانچہ مسلمان علماء نے آپ کو ملحد اور کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا اور آپ کا نام دجال اور دشمن اسلام رکھا اور ملک کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک خطرناک عداوت کی آگ مشتعل ہوگئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کے ساتھ اس وقت تک صرف چند گنتی کے آدمی تھے اس مخالفت کے طوفان سے ہراساں نہیں ہوئے بلکہ اس مخالفت کو بھی الہی سلسلوں کی سنت قرار دے کر اپنی صداقت کی ایک دلیل گردانا۔اور ایک مفصل اور مدلل تصنیف کے ذریعہ جس کا نام آپ نے ازالہ اوہام “ رکھا اپنے دعوی کی صداقت کے دلائل پیش کئے اور ثابت کیا کہ حضرت مسیح ناصری واقعی وفات پاچکے ہیں اور ہر گز آسمان پر نہیں اٹھائے گئے اور قرآن اور حدیث بلکہ خود مسیحی صحیفے انہیں فوت شدہ قرار دیتے ہیں اور یہ کہ آخری زمانہ میں جس مسیح کا وعدہ تھاوہ ایک مثیل کے ذریعہ پورا ہونا تھا اسی طرح جس طرح کہ مسیح ناصری کے زمانہ میں ایلیا نبی کی دوبارہ آمد کا وعدہ یوحنا نبی کی آمد سے پورا ہوا۔آپ نے ثابت کیا کہ قرآن شریف کی متعدد آیتیں حضرت مسیح کو یقینی طور پر فوت شدہ قرار دیتی ہیں اور کوئی ایک آیت بھی مسیح کے آسمان پر اٹھائے جانے کی مؤید نہیں بلکہ مسلمانوں نے عیسائیوں کے خیالات سے متاثر ہو کر اور بعض استعارات سے دھوکا کھا کر یہ سراسر غلط عقیدہ بنا رکھا ہے جس کا آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کے زمانہ میں نام ونشان تک نہ تھا۔آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ مسیح کی دوسری آمد کے لئے جو علامات اسلام میں بتائی گئی تھیں مثلاً مسلمانوں کی حالت کا بگڑ جانا اور عیسائی مذہب کا زور پکڑنا اور ریل اور پر لیس وغیرہ کا جاری ہونا وغیرہ وہ موجودہ زمانہ میں پوری ہو گئی ہیں اور یہی وہ زمانہ ہے جس میں ازل سے مسیح کی آمد ثانی مقدر