سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 394 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 394

۳۹۴ ہیں وہ لازماً آپ سے کمزور اور آپ سے پیچھے اور کئی باتوں میں آپ کی دست نگر ہیں۔پس ان کے ساتھ ایک بڑے بھائی کا سا سلوک کرو اور ان کے لئے ایک ایسا ماحول پیدا کر دو جوان کی تسلی اور ہمت افزائی کا باعث ہو اور اگر ممکن ہو تو ان کو ان کے حق سے بھی زیادہ دے دو کیونکہ آپ لوگ دوسروں کو دے کر پھر بھی آگے ہی رہتے ہیں اور دوسرے لوگ آپ سے لے کر پھر بھی پیچھے ہی رہتے ہیں۔اسی ضمن میں آپ نے ہندوؤں کو یہ بھی نصیحت فرمائی کہ اگر مسلمانوں کو یا ملک کی دوسری چھوٹی قوموں کو اپنی قلت یا کمزوری یا غربت کی وجہ سے یہ احساس ہے کہ بعض باتوں میں ان کے جدا گانہ حقوق علیحدہ صورت میں محفوظ رہنے چاہئیں۔تو اس وقت ان کے اس مطالبہ کو فراخدلی کے ساتھ قبول کر لو تا کہ ان کے دل ہمت پکڑیں اور وہ اس نئے دور میں دل جمعی کے ساتھ داخل ہوں۔پھر جب اس کے بعد آہستہ آہستہ آپ لوگوں کے حسن سلوک کی وجہ سے انہیں تسلی ہو جائے گی تو وہ خود بخو داشترا کی نظام کی خوبیاں دیکھ کر اس کی طرف آتے جائیں گے اور آپ کا رستہ آسان ہو جائے گا اور مسلمانوں سے آپ نے یہ فرمایا کہ آپ لوگ ملک میں تھوڑے ہیں اور بہر حال آپ نے ہندوؤں کے ساتھ مل کر رہنا ہے اس لئے ان کے ساتھ بہتر تھا ہم کی پالیسی کو مدنظر رکھو اور بلا وجہ بگاڑ کی صورت نہ پیدا کرو۔مگر ساتھ ہی آپ نے انہیں نصیحت فرمائی کہ جن صوبوں میں خدا نے آپ لوگوں کو اکثریت دے رکھی ہے ان میں اکثریت کو کسی صورت میں بھی قربان نہ ہونے دو یعنی ایسا نہ ہو کہ آپ لوگ اقلیت والے صوبوں میں اپنے حق سے کسی قدر زیادہ لینے کی خاطر اکثریت والے صوبوں میں اپنی اکثریت کو خطرہ میں ڈال دیں کیونکہ موجودہ حالات میں ایسا قدم آپ لوگوں کو ملک میں بالکل بے دست و پا کر دے گا۔اور والیان ریاست کو آپ نے یہ نصیحت فرمائی کہ خواہ برطانوی حکومت کے ساتھ آپ کے ہزار معاہدے ہوں یہ بات نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ آپ کی ریاستیں ہندوستان کا حصہ ہیں اور ہندوستان کی ترقی یا تنزل میں ان کا چولی دامن کا ساتھ ہے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا پس آپ صاحبان ہندوستان کے آئینی نظام سے بالکل علیحدہ رہنے کا خیال ترک کر دیں