سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 386 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 386

سامنے دب کر اور ذلیل ہو کر رہنا پڑتا ہے پس جہاں دینی اور اخلاقی اصلاح کی ضرورت ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمان اپنی اقتصادی اصلاح کی طرف بھی فوری توجہ دیں چنانچہ آپ نے اس اصلاح کی غرض سے ان کے سامنے بہت سی عملی تجاویز پیش کیں جن میں دو تجویزیں زیادہ نمایاں تھیں اوّل یہ کہ مسلمان تجارت کی طرف زیادہ توجہ دیں اور ہر شہر اور ہر قصبہ میں اپنی دو کا نہیں کھولیں اور حتی الوسع صرف مسلمان دوکانداروں سے سودا خریدا کریں۔دوم یہ کہ جن باتوں میں ہندو لوگ مسلمانوں سے چھوت چھات کرتے ہیں اور انہیں ناپاک سمجھتے ہوئے ان کے ہاتھ کی چیز استعمال میں نہیں لاتے ان میں مسلمان بھی (مذہباً نہیں بلکہ اقتصادی اور ملی اغراض کے ماتحت ) ہندوؤں کے ہاتھ کی چیز استعمال نہ کریں تا کہ ان میں بے غیرتی کا جذبہ نہ پیدا ہو اور ان کی تجارت کو بھی اس ذریعہ سے فروغ حاصل ہو جاوے۔آپ کی اس بروقت اور پر زور تحریک نے جو صرف کاغذی نہیں تھی بلکہ عملی رنگ رکھتی تھی اور آپ نے اپنی جماعت میں اس پر عمل بھی شروع کر دیا تھا مسلمانان پنجاب میں حیرت انگیز اثر پیدا کیا اور ایک نہایت ہی قلیل عرصہ میں مسلمانوں کی ہزاروں نئی دوکانیں کھل گئیں اور دوسری طرف اکثر مسلمانوں کے اندر یہ احساس نہ صرف پیدا ہو گیا بلکہ ایک زندہ اور پر جوش جذبہ کی صورت اختیار کر گیا کہ جب تک ہندو لوگ ان سے چھوت چھات کرتے اور انہیں ذلیل اور ناپاک سمجھتے ہیں اور ان سے اپنی ضروریات کی چیزیں نہیں خریدتے اس وقت تک مسلمانوں کو بھی ان سے پر ہیز کرنا چاہئے۔آپ نے اس بات کو واضح فرمایا کہ ہمیں ہندوؤں سے دشمنی نہیں ہے بلکہ وہ بھی ہمارے وطنی بھائی ہیں مگر مسلمانوں کی ہمدردی ہمیں اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ جو بات انہیں دن بدن تباہی کی طرف لے جا رہی ہے اس سے انہیں محفوظ کیا جاو ہے ہاں اگر ہند و صاحبان مسلمانوں سے تعصب نہ برتیں اور انہیں