سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 384 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 384

۳۸۴ کی فضا سخت مسموم ہو جائے گی اور کسی قوم کے لئے بھی امن نہیں رہے گا اور دوسری طرف آپ نے رنگیلا رسول“ کے مصنف راجپال کے قاتل کے فعل کو بھی قابل ملامت اور اسلامی تعلیم کے خلاف قرار دیا۔آپ نے بتایا کہ اسلام اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ لوگ قانون کو خود اپنے ہاتھ میں لیں اور نہ ہی اسلام کا فروں کے قتل کی تحریک کرتا ہے بلکہ وہ ہر حال میں صبر اور امن کی تعلیم دیتا ہے۔پس اگر ایک نا پاک دل انسان نے آنحضرت ﷺ کے خلاف دل آزار حملہ کیا تھا تو اس پر یہ نہیں ہونا چاہئے تھا کہ ایک مسلمان اٹھ کر خود بخود کتاب کے مصنف کو قتل کر دے۔ایسا طریق ملک میں بدامنی پیدا کرنے والا اور خلاف تعلیم اسلام ہے۔مگر آپ نے یہ بات تکرار کے ساتھ بار بار واضح فرمائی کہ جب تک اشتعال انگیز تحریروں کے سلسلہ کو ایک پختہ اور واضح قانون کے ذریعہ روکا نہیں جائے گا اس وقت تک اس قسم کے واقعات ہوتے رہیں گے کیونکہ ہر کس و ناکس سے اس بات کی توقع نہیں رکھی جاسکتی کہ وہ ہر حال میں اپنے جذبات کو روک کر رکھ سکے گا۔اس ضمنی نوٹ کے بعد ہم پھر اصل مضمون کی طرف لوٹتے ہیں۔ابھی ”رنگیلا رسول“ کا مصنف قید حیات میں تھا اور اس کے قتل کا واقعہ عمل میں نہیں آیا تھا کہ ماہ مئی ۱۹۲۷ء میں امرتسر کے ایک ہندو رسالہ ” ورتمان“ میں ایک اور نہایت دلآزار مضمون آنحضرت ﷺ کے متعلق شائع ہوا۔اس پر حضرت خلیفہ اسیح ثانی نے اوائل جون ۱۹۲۷ء میں ایک بڑے سائز کا پوسٹر لکھ کر شائع فرمایا جس میں ورتمان“ کے اقتباسات درج کر کے حکومت اور پبلک دونوں کو بتایا کہ یہ وہ آگ ہے جو ملک میں بڑی سرعت کے ساتھ پھیل رہی ہے اور اگر اسے فور روکا نہ گیا تو یقیناً وہ ایک خطر ناک تباہی کا موجب بن جائے گی۔اس پوسٹر کے شائع ہونے پر جس نے ساری تصویر کو گویا بالکل ننگا کر کے ملک کے سامنے رکھ دیا تھا شمالی ہندوستان میں خطرناک ہیجان کی صورت پیدا ہوگئی اور گورنمنٹ کو انتہائی جدو جہد کے ساتھ امن قائم رکھنا پڑا۔اور لوگوں کے جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے حکومت نے نہ صرف در تمان“ کی اس اشاعت کو ضبط کر لیا بلکہ ”ور تمان“ کے