سلسلہ احمدیہ — Page 368
۳۶۸ بہت نوازا اور بہت سی کامیابیوں کا پیش خیمہ بنا دیا۔روانہ ہونے سے پہلے آپ نے اپنے پیچھے تمام ہندوستان کے لئے مولانا مولوی شیر علی صاحب کو اپنی جگہ امیر مقررفرمایا اور بارہ اصحاب کے عملہ کے ساتھ جن میں بعض دینی علماء اور بعض سیکرٹری اور بعض احمد یہ پریس کے نمائندے شامل تھے روانہ ہوئے۔ان بارہ اصحاب کے علاوہ چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب حال لاممبر گورنمنٹ آف انڈیا بھی جو خدا کے فضل سے جماعت احمد یہ قادیان کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور اس وقت لا ہور میں بطور بیرسٹر پریکٹس کرتے تھے لندن میں آپ کے ساتھ جا ملے اور پھرا کثر حصہ سفر کا آپ کے ساتھ رہے۔سفر میں حضرت خلیفہ اسی ثانی کو خیال آیا کہ اگر راستہ میں مصر اور شام اور فلسطین میں بھی ہوتے جائیں تو اچھا ہو گا۔چنانچہ اس تجویز کے مطابق آپ ان ملکوں میں بھی تھوڑا تھوڑا ٹھہرتے گئے۔ان ممالک میں آپ کی آمد سے کافی شور ہوا اور لوگوں میں بہت توجہ پیدا ہوئی اور گوایک طبقہ میں مخالفت بھی ہوئی مگر معزز طبقہ نے آپ کا پُر تپاک خیر مقدم کیا چنانچہ فلسطین کے مفتی اعظم نے آپ کے اعزاز میں ایک دعوت دی اور ایک دعوت فلسطین کے ہائی کمشنر نے بھی دی۔مگر جیسا کہ بتایا گیا ہے ایک طبقہ نے دینی لحاظ سے مخالفت بھی کی چنانچہ دمشق کے ایک مشہور ادیب نے آپ سے یہاں تک کہا کہ ایک جماعت کے معزز امام ہونے کی حیثیت سے ہم آپ کا اکرام کرتے ہیں مگر آپ یہ امید نہ رکھیں کہ ان علاقوں میں کوئی شخص آپ کے خیالات سے متاثر ہوگا کیونکہ ہم لوگ عرب نسل کے ہیں اور عربی ہماری مادری زبان ہے اور کوئی ہندی خواہ وہ کیسا ہی عالم ہو ہم سے زیادہ قرآن وحدیث کے معنی سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔آپ نے یہ گفتگو سن کر اس کے خیال کی تردید فرمائی اور ساتھ ہی تقسیم کرتے ہوئے فرمایا کہ مبلغ تو ہم نے آہستہ آہستہ ساری دنیا میں ہی بھیجنے ہیں مگر اب ہندوستان واپس جانے پر میرا پہلا کام یہ ہوگا کہ آپ کے ملک میں مبلغ روانہ کروں اور دیکھوں کہ خدائی جھنڈے کے علمبرداروں کے سامنے آپ کا کیا دم خم ہے۔چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا کہ ولایت سے واپسی پر فوراً دمشق میں ایک دار التبلیغ قائم کر دیا اور اب خدا کے فضل سے شام اور فلسطین اور مصر تینوں میں احمدی