سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 367 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 367

میں ہی کافی لوگ حق کی طرف کھنچ آئے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے اور بہت سے مذہبی سکھ اور بالمیکی اور دوسرے اچھوت اسلام اور احمدیت میں داخل ہو چکے ہیں اس رو کے سب سے زور کا زمانہ ۲۴ ۱۹۲۳ء تھا جبکہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ یہ قو میں ایک انقلابی رنگ میں پلٹا کھا جائیں گے مگر اس وقت بعض خطرات کو محسوس کر کے اس سلسلہ کو دانستہ دھیما کر دیا گیا اور اب تک ان کے معاملہ میں انفرادی تبلیغ پر ہی زور دیا جا رہا ہے اور خدا کے فضل سے اچھے نتائج پیدا ہور ہے ہیں۔اس کے بعد اگر خدا کو مور ہو تو بھی قومی تلی کا وقت کی جائے گا۔حضرت خلیفہ اسیح ثانی کا سفر ولایت :۔حضرت مسیح موعود نے اپنی ایک کتاب میں نزول مسیح کی بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ جو بعض حدیثوں میں ذکر آتا ہے کہ مسیح موعود دمشق کے مشرقی جانب ایک سفید مینار پر نازل ہوگا اس سے اصل مراد تو یہی ہے کہ وہ دمشق کے مشرقی ممالک میں مضبوط اور بے عیب دلائل کے ساتھ ظاہر ہو گا مگر ممکن ہے کہ اس کے ایک ظاہری معنے اس رنگ میں بھی پورے ہوجائیں کہ کبھی ہمیں دمشق جانے کا اتفاق ہو جائے یا ہمارے خلفاء میں سے کوئی خلیفہ دمشق کا سفر اختیار کرے یا سو اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس ضمنی تشریح کو بھی حضرت خلیفہ امسیح ثانی کے ذریعہ پورا فرما دیا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ۱۹۲۴ء میں انگلستان کی مشہور ویمبلے نمائش کے سلسلہ میں بعض انگریز معززین نے یہ تجویز کی کہ اس موقعہ پر لندن میں ایک مذاہب کی کانفرنس بھی منعقد کی جاوے جس میں برٹش ایمپائر کے مختلف مذاہب کے نمائندوں کو دعوت دی جاوے کہ وہ کا نفرنس میں شریک ہو کر اپنے اپنے مذہب کے اصولوں پر روشنی ڈالیں۔یہ دعوت حضرت خلیفتہ المسح ثانی کی خدمت میں بھی پہنچی اور کانفرنس کے منتظمین نے آپ سے استدعا کی کہ آپ خود تکلیف فرما کر کا نفرنس میں شمولیت فرمائیں۔چنانچہ آپ جماعت کے مشورہ کے بعد ۱۲ جولائی ۱۹۲۴ء کو بمبئی سے روانہ ہو گئے۔کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ جماعت کا امام ہندوستان سے باہر جا رہا تھا اور جماعت کے دل پر اپنے امام کی دوری کی وجہ سے ایک گونہ بوجھ تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس سفر کو ترجمه از حمامة البشرکی، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۱۹۷ حاشیہ