سلسلہ احمدیہ — Page 365
۳۶۵ جو ایثار اور کمر بستگی اور نیک نیتی اور تو کل علی اللہ ان کی جانب سے ظہور میں آیا ہے وہ اگر ہندوستان کے موجودہ زمانہ میں بے مثال نہیں تو بے انداز عزت اور قدر دانی کے قابل ضرور ہے۔جہاں ہمارے مشہور پیر اور سجادہ نشین حضرات بے حس و حرکت پڑے ہیں اس اولوالعزم جماعت نے عظیم الشان خدمت کر کے دکھلا دی ہے۔“ یہ تعریف صرف مسلمانوں کی طرف سے ہی نہیں تھی بلکہ بعض ہند و اخباروں نے بھی اس کا اعتراف کیا چنانچہ اخبار ”جیون تت“ نے لکھا:۔ملکانہ راجپوتوں کی شدھی کی تحریک کو روکنے اور ملکانوں میں اسلامی پر چار کرنے کے لئے احمدی صاحبان خاص جوش کا اظہار کر رہے ہیں۔چند ہفتہ ہوئے کہ قادیان فرقہ کے لیڈر مرزا محمود احمد صاحب نے ڈیڑھ سو ایسے کام کرنے والوں کے لئے اپیل کی تھی جو اپنا اور اپنے اہل وعیال کا اور وہاں کے کرایہ کا کل خرچ خود برداشت کریں۔اس اپیل پر چند ہفتوں میں چار سو سے زیادہ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں اور تین پارٹیوں میں نوے احمدی آگرہ کے علاقہ میں پہنچ بھی چکے ہیں اور بہت سرگرمی سے ملکانوں میں اپنا پر چار کر رہے ہیں۔پنے مت کے پر چار کے لئے ان کا جوش اور ایثار بہت قابل تعریف ہے۔اس سے بڑھ کر یہ کہ جب ہند و صاحبان نے شدھی کی روکور کتے دیکھ کر یہ تدبیر اختیار کی که با هم مصالحت کی صورت ہو جائے اور جو لوگ شدھ ہو چکے ہیں وہی بچ جائیں اور اسے ایک سیاسی سوال کا رنگ دے کر اور بین الاقوام مصالحت کے سوال کے نیچے لا کر دہلی میں سیاسی لیڈروں کی ایک میٹنگ منعقد کی گئی تو بعض مسلمان زعماء نے نخوت کے رنگ میں احمدیوں کو دانستہ اس میٹنگ کی شرکت سے الگ رکھا اور صرف اپنے طور پر ہند و صاحبان کے ساتھ سمجھوتہ کرنا چاہا تو اس پر شیخ نیاز علی صاحب وکیل ہائی کورٹ لاہور از زمیندار ۲۴ / جون ۱۹۲۳ء ۲ جیون نت ۱/۲۴اپریل ۱۹۲۳ء