سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 362 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 362

۳۶۲ باہر سے آئی ہیں مگر بہر حال اب ایک عرصہ دراز سے انہوں نے اس ملک میں اس طرح قبضہ جمارکھا ہے کہ گویا سب کچھ انہی کا ہے۔اس کے بعد جب مسلمان دنیا میں پھیلے تو انہوں نے اپنی فاتانہ مارچ میں ہندوستان کا بھی رخ کیا اور ایک نہایت قلیل عرصہ میں اس وسیع ملک کو اپنا بنا لیا۔اس زمانہ میں مسلمان فاتحین کے ساتھ ساتھ یا ان کے آگے پیچھے بعض مسلمان اولیا اور صوفیا بھی اس سرزمین میں آئے اور اپنے زبر دست روحانی اثر کے ماتحت ہندوستان کی بت پرست اقوام کو اسلام کی طرف کھینچنا شروع کر دیا چنانچہ یہ انہی بے نفس بزرگوں کی سعی کا نتیجہ ہے کہ آج ہندوستان کے ملک میں آٹھ کروڑ مسلمان پایا جاتا ہے جو ساری آبادی کا قریباً چہارم حصہ اور خالص ہندو آبادی کے مقابلہ میں (یعنی اچھوت اقوام کو الگ رکھتے ہوئے) قریباً نصف ہے۔مگر اس وسیع تبدیلی مذہب کے زمانہ میں بعض ایسی ہندو قو میں بھی مسلمانوں میں داخل ہو گئیں کہ انہوں نے اسلام کو تو سچا سمجھ کر اختیار کر لیا مگر تعلیم و تربیت کا خاطر خواہ انتظام نہ ہو سکنے کی وجہ سے ان کے خیالات میں ہند وعقائد اور ہندو رسوم کا اثر باقی رہا۔نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ مسلمانوں کے تنزل کے زمانہ میں یہ تو میں آہستہ آہستہ اسلام سے دور ہو کر صرف نام کی مسلمان رہ گئیں حتی کہ صوبہ یوپی کے بعض علاقوں میں ایسی قو میں پائی جاتی ہیں جو نہ صرف ہندوؤں والے نام رکھتی اور ہندور سوم کی پابند ہیں بلکہ بتوں تک کو پوچھتی ہیں مگر باوجود اس کے وہ اپنے آپ کو مسلمان بتاتی اور اپنے گاؤں میں ایک آدھ مسجد بھی بنالیتی ہیں۔یہ لوگ جو زیادہ تر ملکانہ راجپوت کہلاتے ہیں یوپی کے اضلاع آگرہ وایٹہ و مین پوری وعلی گڑھ اور ملحقہ ریاست ہائے بھرت پور والور وغیرہ میں کثرت کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔جب ہندوؤں کے فرقہ آریہ کی نظر اس قوم پر پڑی تو چونکہ یہ فرقہ جمہور ہنود کے خلاف شدھی کا قائل ہے اور دوسری قوموں کے افراد کو اپنے اندر جذب کرنے میں حرج نہیں دیکھتا بلکہ اس کے لئے ساعی رہتا ہے تو انہوں نے خفیہ خفیہ ان قوموں میں شدھی کا پر چار شروع کر کے انہیں پھر ہندو بنانا شروع کر دیا۔اور اس کام کے سیاسی فوائد کو دیکھ کر دوسرے ہندو بھی ان کے ساتھ شریک ہو گئے۔جب یہ روزیادہ زور پکڑنے لگی اور بیرونی دنیا کو اس کا