سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 361 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 361

ملتی امور میں نہ صرف تفصیلی اطلاع رہتی ہے بلکہ دلچسپی اور وابستگی بھی قائم رہتی ہے جو قومی ترقی کے لئے بڑی ضروری چیز ہے۔تیسرے اس ذریعہ سے جماعت کے نمائندے اس بات کی عملی تربیت حاصل کرتے ہیں کہ جماعت کے نظام اور کام کوکس طرح چلانا چاہئے۔مجلس مشاورت میں حضرت خلیفہ اسیج خود شریک ہوتے ہیں اور ہر شخص مشور و دیتے وقت یا دوسرے کی رائے پر جرح کرتے وقت براہ راست حضرت خلیفہ المسیح کو مخاطب کرتا ہے اور گواس مجلس کی اصل غرض و غایت امور مستفسرہ میں خلیفہ وقت و مشورہ دینا ہے مگر خاص حالات میں نمائندوں کو یہ بھی اختیار ہوتا ہے کہ وہ حضرت خلیفہ اسی کی اجازت سے مرکزی نظام کے ناظروں سے ضروری اطلاع حاصل کریں یا ان کے کام پر رائے زنی کر کے اصلاح کی طرف توجہ دلائیں۔اس مجلس کے ایجنڈا کا فیصلہ کلیۂ حضرت خلیفہ اسی کی رائے پر موقوف ہوتا ہے مگر ہر شخص مجاز ہے کہ اس بارے میں بھی آپ کے سامنے اپنا مشورہ پیش کرے۔بالعموم پالیسی کے اہم سوالات جماعت کا سالانہ بجٹ مختلف نظارتوں کے سالانہ پروگرام۔چندوں کی شرح سے تعلق رکھنے والے سوالات اور ایسے اصولی قواعد و ضوابط جن کا مقامی جماعتوں پر اثر پڑتا ہو مشورہ کے لئے پیش کئے جاتے ہیں۔مجلس مشاورت کے قیام کے بعد گویا جماعت کے نظام کا ابتدائی ڈھانچہ مکمل ہو گیا۔یعنی سب سے او پر خلیفہ وقت ہے جو گویا سارے نظام کا مرکزی نقطہ ہے۔اس سے نیچے انتظامی صیغہ جات کو چلانے کے لئے صدر انجمن احمدیہ ہے جس کے مختلف ممبر سلسلہ کے مختلف مرکزی صیغوں کے انچارج ہوتے ہیں اور اس کے بالمقابل مجلس مشاورت ہے جو مختلف مقامی جماعتوں کے نمائندوں کی مجلس ہے اور تمام اہم اور ضروری امور میں خلیفہ وقت کے سامنے مشورہ پیش کرتی ہے اور جس کی پوزیشن ایک طرح سے اور ایک حد تک مجلس واضع قوانین کی سمجھی جاسکتی ہے۔صوبہ یوپی میں ارتداد کی زبر دست رو ہندوستان جیسا کہ اس کا نام ظاہر کرتا ہے ہندوؤں کا گھر ہے اور گو موجودہ ہند و اقوام ابتداء اور جماعت احمدیہ کی والہانہ جد وجہد:۔سے ہی ہندوستان کی رہنے والی نہیں بلکہ بعد میں