سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 349 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 349

۳۴۹ جماعت احمدیہ کا دوسرا بیرونی مشن حضرت خلیفہ اول کے زمانہ کے حالات میں جماعت احمد یہ اور ماریشس کی جماعت کا قیام کے لندن مشن کا ذکر کیا جا چکاہے اور ی بھی بنایا جا چکا ہے کہ یہ دار التبلیغ لندن کے قیام میں بھی حضرت خلیفہ امسیح ثانی کا کا فی ہاتھ تھا کیونکہ آپ نے ہی اپنی قائم کردہ انجمن انصار اللہ کے چندہ سے چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو انگلستان بھجوانے کا انتظام کیا تھا۔یہ دارالتبلیغ خدا کے فضل سے کامیابی کے ساتھ چل رہا تھا اور چوہدری صاحب موصوف بڑے اخلاص اور جوش کے ساتھ تبلیغ اسلام میں مصروف تھے اور قبل اس کے کہ خلافت ثانیہ کا پہلا سال اختتام کو پہنچے اللہ تعالیٰ نے چوہدری صاحب کو ان کی کوششوں کا پہلا شمرہ بھی عطا کر دیا یعنی ایک انگریز مسٹر کور یونامی چوہدری صاحب کے ہاتھ پر اسلام قبول کر کے احمدیت میں داخل ہوا۔اب خلافت ثانیہ کے دوسرے سال میں خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ کا دوسرا بیرونی مشن قائم ہوا۔یہ مشن جزیرہ ماریشس میں قائم کیا گیا جو براعظم افریقہ کے مشرق میں اور خط استوا کے جنوب میں واقع ہے یہ جزیرہ پہلے فرانسیسی حکومت کے ماتحت تھا لیکن بعد میں انگریزی حکومت میں آ گیا اور اس کی آبادی کا بیشتر حصہ ایسا تھا جو کسی زمانہ میں ہندوستان سے جا کر وہاں آباد ہوا تھا۔ان لوگوں نے جب احمدیت کا نام سنا تو اس بات کی خواہش کی کہ ان کے پاس کوئی مبلغ بھجوایا جائے چنانچہ حضرت خلیفتہ اسی ثانی نے اس کام کے لئے حافظ صوفی غلام محمد صاحب بی اے کو منتخب کیا اور وہ فروری ۱۹۱۵ء کو قادیان سے روانہ ہو گئے۔صوفی صاحب کے پرانے مخلصین میں سے ہیں اور انگریزی میں گریجوایٹ ہونے کے علاوہ حافظ قرآن اور عربی علوم کے اچھے ماہر ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح کے حکم سے صوفی صاحب پہلے جزیرہ سیلون میں تشریف لے گئے اور وہاں تین ماہ قیام کر کے اور پیغام حق پہنچا کر آگے روانہ ہوئے۔اس طرح صوفی صاحب کے ذریعہ گویا دومشنوں کا آغاز ہو گیا کیونکہ اس کے بعد سے سیلون کا مشن بھی باقاعدہ تو نہیں مگر نیم با قاعدہ صورت میں چلتا آ رہا ہے اور اس وقت وہ مالا بار کے مبلغ کے حلقہ میں شامل ہے جو سال کا کچھ حصہ سیلون میں جا کر گزارتا ہے۔