سلسلہ احمدیہ — Page 348
۳۴۸ دلوں سے اتنا لمبا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی ابھی تک اس کے بقیہ حصوں کے انتظار کا جذبہ مٹ نہیں سکا۔بہر حال اس تفسیر نے دنیا کو ایک رستہ دکھا دیا ہے اور اب وہ اس بات کا کسی قدرا ندازہ کر سکنے کے قابل ہے کہ احمدیت کے سینہ میں قرآنی علوم کے کتنے خزانے مخفی ہیں۔منارة امسیح کی تکمیل:۔منکرین خلافت نے اپنی طاقت کے زمانہ میں یعنی جب وہ حضرت خلیفہ اول کے عہد میں صدر انجمن احمدیہ کے بیت المال پر قابض تھے قادیان میں بعض شاندار عمارتوں کی بنیاد رکھی تھی۔ہم ان عمارتوں کو برا نہیں کہتے کیونکہ بہر حال وہ مرکز سلسلہ کی ظاہری رونق اور شان کو بڑھانے والی اور جماعت کی بعض ضرورتوں کو پورا کرنے والی تھیں مگر چونکہ حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کی توجہ تمام تر اشاعت دین اور اعلاء کلمۃ اللہ میں لگی ہوئی تھی اس لئے آپ اس زمانہ میں بسا اوقات اس بات پر کڑھتے تھے کہ جماعت کا اس قدر روپیہ جس کی دین کے کاموں میں ایسی اشد ضرورت ہے اس طرح اینٹ اور گارہ میں ضائع کیا جارہا ہے۔پس جب آپ کا زمانہ آیا تو آپ نے اپنے عہد خلافت میں ان عمارتوں کے سلسلہ کو یکدم روک دیا مگر ایک عمارت کی تڑپ آپ کے دل میں بھی منفی تھی اور وہ منارة امسیح کی عمارت تھی۔آپ دیکھتے تھے کہ یہ عمارت سلسلہ کی ایک مقدس یادگار ہے جس کی حضرت مسیح موعود نے خود اپنے ہاتھ سے بنیادرکھی مگر روپے کی قلت کی وجہ سے اسے مکمل نہیں فرما سکے۔پس آپ نے جہاں دوسری عمارتوں کے سلسلہ کو بند کیا وہاں خود کہہ کر اور حکم دے کر منارة امسیح کی بند شده عمارت کی تعمیر جاری کرا دی۔چنانچہ خدا کے فضل سے بہت جلد ہی ہمارے سلسلہ کی یہ روحانی یادگار جس کا رنگ پورے طور پر سفید ہے تکمیل کو پہنچ گئی۔اور اب یہ منارہ نہ صرف قادیان کی آبادی کا ایک دلکش منظر پیش کرتا ہے بلکہ جماعت کو ہر وقت ان کا یہ فرض بھی اددلاتا ہے کہ وہ ایک سفید اور بے داغ دل کے ساتھ اسلام کی بلندیوں میں پرواز کرتے چلے جائیں۔جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں منارہ کی بنیاد ۱۹۰۳ء میں رکھی گئی تھی۔مگر بعد میں یہ کام فنڈز کی کمزوری کی وجہ سے رک گیا اور پھر خلافت ثانیہ کے زمانہ میں ۱۹۱۵ء میں دوبارہ جاری ہو کر ۱۹۱۶ء میں تکمیل کو پہنچا۔