سلسلہ احمدیہ — Page 347
۳۴۷ جوحکومت جماعت احمدیہ کو یہ چیز دیتی ہے وہ خواہ کوئی ہو اور کسی ملک میں ہو وہ جماعت احمد یہ کو ہمیشہ اپنا مخلص اور وفادار پائے گی۔جو لوگ جماعت احمدیہ پر انگریزوں کی جاسوسی اور حکومت انگریزی کے ساتھ خفیہ ساز باز کا الزام لگاتے ہیں وہ یقیناً جھوٹے اور فریبی ہیں کیونکہ انگریزوں کے ساتھ ہمارے اتحاد کی تہہ میں اس جذبہ کے سوا اور کوئی جذبہ نہیں جو ہم نے اوپر بیان کر دیا ہے اور وقت آنے پر دنیا دیکھ لے گی کہ ہماری پالیسی کی بنیا د اصول پر ہے نہ کہ ذاتیات پر۔جماعت کی تبلیغی کوششوں میں توسیع اور ایک نادر تفسیر :۔اندرونی اختلافات کی کلاش سے فرصت پانے کے بعد حضرت خلیفتہ اسیح ثانی کی توجہ سب سے پہلے جماعت کے تبلیغی کام کو وسیع کرنے کی طرف مبذول ہوئی۔چنانچہ ہم آگے چل کر دیکھیں گے کہ آپ کے عہد خلافت میں کس حیرت انگیز رنگ میں جماعت کے تبلیغی مشنوں نے ترقی کی اور دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا میں تبلیغ کا ایک وسیع جال پھیل گیا۔مگر جو کام مسند خلافت پر متمکن ہوتے ہی فوری طور پر کیا گیا وہ قرآنی علوم کی اشاعت کا کام تھا۔چنانچہ ۱۹۱۵ء میں جو خلافت ثانیہ کا دوسرا سال تھا حضرت خلیفتہ اسیح ثانی کی ہدایت اور نگرانی کے ماتحت قرآن شریف کے پہلے پارہ کی تفسیر انگریزی اور اردو ہر دو میں تیار کرا کے شائع کی گئی جس نے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ یورپ کے علم دوست حلقہ میں بھی ایک ہلچل پیدا کر دی حتی کہ ایک یورپین مستشرق نے مشہور عیسائی رسالہ مسلم ورلڈ میں اس تفسیر پر ریویو کرتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ احمدیت کے لٹریچر کا مطالعہ ہی اس بات کا اندازہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے کہ مذاہب کی موجودہ جنگ میں اسلام اور مسیحیت میں سے کون غالب آنے والا ہے لہ یہ تفسیر خود حضرت خلیفہ المسیح ثانی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تھی مگر آپ کے نام پر شائع نہیں ہوئی کیونکہ آپ نے جماعت کے ذمہ دار لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ میں صرف ایک نمونہ تیار کرتا ہوں اور آگے اسے مکمل کرنا آپ لوگوں کا کام ہو گا۔اس تفسیر کا انگریزی ترجمہ احمدی علما کے ایک بورڈ نے کیا تھا مگر افسوس ہے کہ بعض مجبوریوں کی وجہ سے یہ نادر الوجود تغییر ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی لیکن جن لوگوں نے اس کا پہلا پارہ مطالعہ کیا ہے ان کے دیکھو مسلم ورلڈ بابت اپریل ۱۹۱۶ء