سلسلہ احمدیہ — Page 334
۳۳۴ نفوس کو چھوڑ کر اس کا رستہ وہی ہوتا جو آج منکرین خلافت کا رستہ ہے کہ خدا کے برگزیدہ مسیح کی طرف سے منہ موڑ کر الٹے پاؤں لوٹے جارے ہیں اور جس گڑھے سے نکلے تھے اس میں گرنے کے درپے ہیں حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کا یہ ایک ایسا عظیم الشان احسان ہے کہ جس کی قدرو قیمت زمانہ کے گزرنے کے ساتھ کم نہیں ہوگی بلکہ دن بدن بڑھتی جائے گی اور اس کا پورا پورا اندازہ تب جا کر ہو گا کہ جب ہمارے ان جھکے ہوئے دوستوں کا روحانی انجام نگا ہوکر بعد میں آنے والی نسلوں کے سامنے آئے گا۔الغرض حضرت خلیفہ امسیح اوّل کے زمانہ میں ہی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اپنے علم و فضل سے ایسا مقام حاصل کر لیا تھا کہ جماعت کے ہر مخلص فرد کی نظر شکر و امتنان کے جذبات کے ساتھ آپ کی طرف اٹھتی تھی اور حضرت خلیفہ اول بھی آپ کو انتہائی محبت اور اکرام کی نظر سے دیکھتے تھے اور آپ پر از حد خوش تھے۔چنانچہ اپنی بیماری وغیرہ کے ایام میں ہمیشہ آپ ہی کو اپنی جگہ امام صلوۃ مقرر فرماتے تھے اور بسا اوقات اپنی پبلک تقریروں میں آپ کے جذبہ اطاعت اور جذ به خدمت دین اور علمی قابلیت کی تعریف فرمایا کرتے تھے اور کئی دفعہ اشارہ کنایہ سے اس بات کا بھی اظہار فرمایا کہ میرے بعد یہی خلیفہ ہوں گے۔چنانچہ ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔ایک نکتہ قابل یا دسنائے دیتا ہوں کہ جس کے اظہار سے میں باوجود کوشش رک نہیں سکا۔وہ یہ کہ میں نے حضرت خواجہ سلیمان رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا۔ان کو قرآن شریف سے بڑا تعلق تھا۔ان کے ساتھ مجھے بہت محبت ہے۔۷۸ برس تک انہوں نے خلافت کی۔۲۲ برس کی عمر میں وہ خلیفہ ہوئے تھے۔یہ بات یاد رکھو کہ میں نے کسی خاص مصلحت اور خالص بھلائی کے لئے کہی ہے۔حضرت خلیفہ اول کی وفات کے وقت جو ۱۹۱۴ء میں ہوئی حضرت خلیفۃ المسیح خانی کی عمر صرف پچیس سال تھی مگر اس خام عمر میں بھی آپ نے کی وسیع ذمہ داریوں کو جس خوبی اور جس حسن انتظام کے ساتھ نبھایا وہ آپ ہی کا حصہ تھا۔آپ کی اہلی زندگی کے متعلق صرف اس قدر ذکر خطبہ جمعہ مندرجہ بدر ۲۷ جنوری ۱۹۱۰، صفحہ ۹ کالم نمبر ۳