سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 323 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 323

۳۲۳ بالآ خر جب یہ لوگ کسی طرح بھی نظام خلافت کے قبول کرنے کے لئے آمادہ نہ ہوئے تو ان سے استدعا کی گئی کہ اگر آپ لوگ خلافت کے منکر ہی رہنا چاہتے ہیں تو آپ کا خیال آپ کو مبارک ہو لیکن جو لوگ خلافت کو ضروری خیال کرتے ہیں آپ خدا را ان کے رستے میں روک نہ بنیں اور انہیں اپنے میں سے کوئی خلیفہ منتخب کر کے ایک ہاتھ پر جمع ہو جانے دیں مگر یہ اپیل بھی بہرے کانوں پر پڑی اور اتحاد کی آخری کوشش ناکام گئی۔چنانچہ جب ۱۴ / مارچ ۱۹۱۴ء کو بروز ہفتہ عصر کی نماز کے بعد سب حاضر الوقت احمدی خلافت کے انتخاب کے لئے مسجد نور میں جمع ہوئے تو منکرین خلافت بھی اس مجمع میں روڑا اٹکانے کی غرض سے موجود تھے۔اس دو ہزار کے مجمع میں سب سے پہلے نواب محمد علی خان صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی وصیت پڑھ کر سنائی۔جس میں جماعت کو ایک ہاتھ پر جمع ہو جانے کی نصیحت کی تھی اس پر ہر طرف سے حضرت میاں صاحب حضرت میاں صاحب کی آوازیں بلند ہوئیں اور اسی کی تائید میں مولانا سید محمد احسن صاحب امروہوی نے جو جماعت کے پرانے بزرگوں میں سے تھے کھڑے ہو کر تقریر کی اور خلافت کی ضرورت اور اہمیت بتا کر تجویز کی کہ حضرت خلیفہ اول کے بعد میری رائے میں ہم سب کو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ہاتھ پر جمع ہو جانا چاہئے کہ وہی ہر رنگ میں اس مقام کے اہل اور قابل ہیں۔اس پر سب طرف سے پھر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے حق میں آوازیں اٹھنے لگیں اور سارے مجمع نے بالا تفاق اور بالاصرار کہا کہ ہم انہی کی خلافت کو قبول کرتے ہیں۔جیسا کہ بتایا جا چکا ہے اس وقت مولوی محمد علی صاحب اور ان کے بعض رفقاء بھی موجود تھے۔مولوی محمد علی صاحب نے مولوی محمد احسن صاحب کی تقریر کے دوران میں کچھ کہنا چاہا اور اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کرلوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی لیکن لوگوں نے یہ کہہ کر انہیں روک دیا کہ جب آپ خلافت ہی کے منکر ہیں تو اس موقع پر ہم آپ کی کوئی بات نہیں سن سکتے۔اور اس کے بعد مومنوں کی جماعت نے اس جوش اور ولولہ کے ساتھ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی طرف