سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 324 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 324

۳۲۴ رخ کیا کہ اس کا نظارہ کسی دیکھنے والے کو نہیں بھول سکتا۔لوگ چاروں طرف سے بیعت کے لئے ٹوٹے پڑتے تھے اور یوں نظر آتا تھا کہ خدائی فرشتے لوگوں کے دلوں کو پکڑ پکڑ کر منظور ایزدی کی طرف کھینچے لا رہے ہیں۔اس وقت ایسی ریلا پیلی تھی اور جوش کا یہ عالم تھا کہ لوگ ایک دوسرے پر گر رہے تھے اور بچوں اور کمزور لوگوں کے پس جانے کا ڈر تھا اور چاروں طرف سے یہ آواز اٹھ رہی تھی کہ ہماری بیعت قبول کریں ہماری بیعت قبول کریں۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے چند لمحات کے تامل کے بعد جس میں ایک عجیب قسم کا پُر کیف عالم تھا لوگوں کے اصرار پر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور بیعت لینی شروع کی۔یکلخت مجلس میں ایک سناٹا چھا گیا اور جو لوگ قریب نہیں پہنچ سکتے تھے انہوں نے اپنی پگڑیاں پھیلا پھیلا کر اور ایک دوسری کی پیٹھوں پر ہاتھ رکھ کر بیعت کے الفاظ دہرائے سے بیعت شروع ہو جانے کے بعد مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء اس مجمع سے حسرت کے ساتھ رخصت ہو کر اپنی فرودگاہ کی طرف چلے گئے۔بیعت کے بعد بھی دعا ہوئی جس میں سب لوگوں پر رقت طاری تھی اور پھر حضرت ماریہ المسیح ثانی نے اس مجمع میں کھڑے ہو کر ایک دردانگیز تقریر فرمائی جس میں جماعت کو اس کے نئے عہد کی ذمہ داریاں بتا کر آئندہ کام کی طرف توجہ دلائی اور اسی دوران میں کہا کہ میں ایک کمزور اور بہت ہی کمزور انسان ہوں مگر میں خدا سے امید رکھتا ہوں کہ جب اس نے مجھے اس خلعت سے نوازا ہے تو وہ مجھے اس بوجھ کے اٹھانے کی طاقت دے گا اور میں تمہارے لئے دعا کروں گا اور تم میرے لئے دعا کرو چنانچہ فرمایا:۔دوستو ! میرا یقین اور کامل یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔میرے پیارو! پھر میرا یقین ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں پھر میرا یقین ہے کہ قرآن مجید وہ پیاری کتاب ہے جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی اور وہ خاتم الکتب اور خاتم شریعت الفضل مورخہ ۱۸/ مارچ ۱۹۱۴ء صفحه ۳۔