سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 320 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 320

۳۲۰ تازہ بنی ہوئی جماعت۔بچپن کی اٹھی ہوئی امنگوں میں مخمور۔اور صداقت کی برقی طاقت سے دنیا پر چھا جانے کے لئے بے قرار۔جس کے لئے دین سب کچھ تھا اور دنیا کچھ نہیں تھی وہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی تھی کہ اگر ایک طرف اس کے پیارے امام کی نعش پڑی ہے تو دوسری طرف چند لوگ اس امام سے بھی زیادہ محبوب چیز یعنی خدا کے برگزیدہ مسیح کی لائی ہوئی صداقت اور اس صداقت کی حامل جماعت کو مٹانے کے لئے اس پر حملہ آور ہیں۔یہ نظارہ نہایت درجہ صبر آزما تھا اور مؤلف رسالہ ہذا نے ان تاریک گھڑیوں میں ایک دوکو نہیں دس بیس کو نہیں بلکہ سینکڑوں کو بچوں کی طرح روتے اور بلکتے ہوئے دیکھا۔اپنے جدا ہونے والے امام کے لئے نہیں۔مجھے یہ اعتراف کرنا چاہئے کہ اس وقت جماعت کے غم کے سامنے یہ تم بھولا ہوا تھا۔بلکہ جماعت کا اتحاد اور اس کے مستقبل کی فکر میں۔مگر اکثر لوگ تسلی کے اس فطری ذریعہ سے بھی محروم تھے۔وہ رونا چاہتے تھے مگر افکار کے ہجوم سے رونا نہیں آتا تھا اور دیوانوں کی طرح ادھر ادھر نظر اٹھائے پھرتے تھے تا کہ کسی کے منہ سے تسلی کا لفظ سن کر اپنے ڈوبتے ہوئے دل کو سہارا دیں۔غم یہ نہیں تھا کہ منکرین خلافت تعداد میں زیادہ ہیں یا یہ کہ ان کے پاس حق ہے کیونکہ نہ تو وہ تعداد میں زیادہ تھے اور نہ ان کے پاس حق تھا۔بلکہ غم یہ تھا کہ باوجود تعداد میں نہایت قلیل ہونے کے اور باوجود حق سے دور ہونے کے ان کی سازشوں کا جال نہایت وسیع طور پر پھیلا ہوا تھا اور قریباً تمام مرکزی دفاتر پر ان کا قبضہ تھا اور پھر ان میں کئی لوگ رسوخ والے طاقت والے اور دولت والے تھے اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ چونکہ ابھی تک اختلافات کی کشمکش مخفی تھی اس لئے یہ بھی علم نہیں تھا کہ کون اپنا ہے اور کون بیگا نہ اور دوسری طرف جماعت کا یہ حال تھا کہ ایک بیوہ کی طرح بغیر کسی خبر گیر کے پڑی تھی۔گویا ایک ریوڑ تھا جس پر کوئی گلہ بان نہیں تھا اور چاروں طرف بھیڑیئے تاک لگائے بیٹھے تھے۔اس قسم کے حالات نے دلوں میں عجیب ہیبت ناک کیفیت پیدا کر رکھی تھی اور گو خدا کے وعدوں پر ایمان تھا مگر ظاہری اسباب کے ماتحت دل بیٹھے جاتے تھے جمعہ سے لے کر عصر تک کا وقت زیادہ نہیں ہوتا مگر یہ گھڑیاں ختم ہونے میں نہیں آتی تھیں۔آخر خدا خدا کر کے عصر کا وقت آیا اور خدا