سلسلہ احمدیہ — Page 314
۳۱۴ میں تبلیغی اغراض کے ماتحت قائم کر رکھی تھی اور انصار اللہ کو پہلے سے بیرون ہند کی ایک تبلیغی سکیم مد نظر تھی اس لئے چوہدری صاحب کا خرچ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے انجمن انصار اللہ کی طرف سے برداشت کیا اور کچھ اپنے پاس سے اور اپنے دوستوں کی طرف سے ڈالا اور چوہدری صاحب موصوف ۱۲۸ جون ۱۹۱۳ء کو تبلیغ کی غرض سے ولایت روانہ ہو گئے لے اس طرح گویا چوہدری فتح محمد صاحب وہ پہلے احمدی مبلغ تھے جو احمدیوں کی طرف سے بیرون ہند میں خالص تبلیغ کی غرض سے بھیجے گئے۔چوہدری صاحب نے کچھ عرصہ تک خواجہ صاحب کی معیت میں کام کیا اور اس عرصہ میں خواجہ صاحب موصوف نے بعض ذی اثر غیر احمدیوں کی امداد سے مسجد دو کنگ کی امامت کا بھی حق حاصل کر لیا مگر چونکہ خواجہ صاحب اور چوہدری صاحب کے خیالات اور طریق تبلیغ میں بہت فرق تھا اس لئے حضرت خلیفہ اول کی وفات پر یہ اتحاد قائم نہ رہ سکا اور چوہدری صاحب جلد ہی خواجہ صاحب سے الگ ہو کر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ہدایات کے ماتحت مستقل حیثیت میں کام کرنے لگے اور دو کنگ کو چھوڑ کر اپنا مرکز لندن میں قائم کر لیا جواب تک جماعت احمدیہ کے برطانوی مشن کا مرکز ہے۔اس جگہ یہ ذکر بھی بے موقع نہ ہوگا کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے اوائل زمانہ میں یہ خواب دیکھا تھا کہ آپ ولایت تشریف لے گئے ہیں اور وہاں جا کر چند سفید قسم کے جانور درختوں کے اوپر سے پکڑے ہیں اور آپ نے اس کی یہ تشریح فرمائی تھی کہ آپ کی تبلیغ ولایت میں پہنچے گی اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ بعض انگریزوں کو ہدایت دے گا۔کے سوالحمد للہ کہ جماعت کے برطانوی مشن کے ذریعہ حضرت مسیح موعود کا یہ رویا پورا ہوا اور ہورہا ہے۔مگر یہ یادرکھنا چاہئے کہ چند پرندوں کا پکڑا جانا صرف اس زمانہ تک کے لئے ہے کہ جب تک یہ پرندے بلندیوں کی ہوا کھاتے ہوئے درختوں پر بسیرا لگائے بیٹھے ہیں۔لیکن جب احمدیت کے ذریعہ دنیا میں انقلابی صورت پیدا ہوگی اور ان سفید پرندوں کا شجری خمار جا تا رہے گا تو پھر چند پرندوں کے پکڑنے کا سوال نہیں ہوگا بلکہ یہ سوال ہوگا کہ خدائی الفضل مورخہ ۱۲ جولائی ۱۹۱۳ صفحہ کالم نمبر ۲ سے تلخیص از ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۷۶-۳۷۷