سلسلہ احمدیہ — Page 310
۳۱۰ اور وہ یہ کہ جماعت کا کثیر حصہ خلافت کی اہمیت اور اس کی برکات اور اس کے خدا دا د منصب کو اچھی طرح سمجھ گیا اور ان گم گشتگان راہ کے ساتھ ایک نہایت قلیل حصہ کے سوا اور کوئی نہ رہا۔اور جب ۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفہ اول کی وفات ہوئی تو بعد کے حالات نے بتا دیا کہ حضرت خلیفہ اول کی مسلسل اور ان تھک کوششوں نے جماعت کو ایک خطرناک گڑھے میں گرنے سے محفوظ کر رکھا ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد کا یہ ایسا جلیل القدر کا رنامہ ہے کہ اگر اس کے سوا آپ کے عہد میں کوئی اور بات نہ بھی ہوتی تو پھر بھی اس کی شان میں فرق نہ آتا۔خلافت کے سوال کے علاوہ منکرین خلافت نے جماعت میں آہستہ آہستہ یہ سوال بھی پیدا کر دیا تھا کہ کیا حضرت مسیح موعود پر ایمان لانا ضروری ہے؟ اور کیا حضرت مسیح موعود نے واقعی نبوت کا دعویٰ کیا تھا؟ ان لوگوں کا یہ عقیدہ ہو گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود پر ایمان لانا اچھا تو ہے مگر ضروری نہیں اور ایک مسلمان آپ پر ایمان لانے کے بغیر بھی نجات پاسکتا ہے اور یہ کہ حضرت مسیح موعود نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ صرف مجددیت اور مسیحیت کا دعویٰ کیا تھا ہم جماعت احمدیہ کے مخصوص عقائد کے باب میں ان مسائل پر کافی روشنی ڈال چکے ہیں اور اس جگہ اس بحث کے اعادہ کی ضرورت نہیں مگر اس تبد یلی عقیدہ کی وجوہات اور اس کے نتائج کے متعلق ہم انشاء اللہ آگے چل کر روشنی ڈالیں گے جبکہ حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد جماعت کے عملی افتراق کی بحث آئے گی کیونکہ اسی وقت ان تبدیل شدہ عقیدوں کا پورا ظہور ہوا۔قرآن شریف کا انگریزی ترجمہ :۔چونکہ حضرت مسیح موعود کی بعثت کی اغراض میں سے ایک غرض قرآنی علوم کی اشاعت تھی اس لئے جماعت احمد یہ میں قرآن شریف کو سمجھنے اور پھر اس کے علوم کو دوسروں تک پہنچانے کی طرف خاص توجہ تھی اور حضرت خلیفہ اول کے درس قرآن نے اس شوق کو اور بھی جلا دے دی تھی چنانچہ کئی احمدیوں نے قرآن شریف کی تفسیر لکھنے کی کوشش کی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اپنے رنگ میں اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق ان کو کامیاب کیا انہی کوششوں میں سے ایک