سلسلہ احمدیہ — Page 309
۳۰۹ اختیار کر لیا۔اول یہ کہ انہوں نے اس بات کا پراپیگنڈا جاری رکھا کہ جماعت میں اصل چیز انجمن ہے نہ کہ خلافت۔دوم یہ کہ انہوں نے ہر رنگ میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو نیچا کرنے اور جماعت میں بدنام کرنے کا طریق اختیار کر لیا۔تا کہ اگر جماعت خلافت کے انکار کے لئے تیار نہ ہو تو کم از کم وہ خلیفہ نہ بن سکیں۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے بار بار حلف اٹھا کر کہا کہ میرے وہم و گمان میں بھی خلیفہ بنے کا خیال نہیں ہے اور ایک خلیفہ کے ہوتے ہوئے آئندہ خلیفہ کا ذکر کرنا ہی ناجائز اور خلاف تعلیم اسلام ہے پس خدا کے لئے اس قسم کے ذاتی سوالات کو اٹھا کر جماعت کی فضا کو مزید مکدر نہ کرو مگر ان خدا کے بندوں نے ایک نہ سنی اور حضرت مولوی صاحب کی زندگی کے آخری لمحہ تک اپنے اس دہرے پراپیگنڈے کو جاری رکھا۔بلکہ حضرت خلیفہ اول کے خلاف بھی اپنے خفیہ طعنوں کے سلسلہ کو چلاتے چلے گئے۔اس عرصہ میں حضرت خلیفہ اول نے بھی متعدد موقعوں پر خلافت کی تائید میں تقریریں فرمائیں اور طرح طرح سے جماعت کو سمجھایا کہ خلافت ایک نہایت ہی بابرکت نظام ہے جسے اسلام نے ضروری قرار دیا ہے اور خدا تعالیٰ اس نظام کے ذریعہ نبی کے کام کو مکمل فرمایا کرتا ہے اور ہر نبی کے بعد خلافت ہوتی رہی ہے اور حضرت مسیح موعود نے بھی اپنے بعد خلافت کا وعدہ فرمایا تھا اور یہ کہ گو بظاہر خلیفہ کا تقر رمومنوں کے انتخاب سے ہوتا ہے مگر دراصل اسلامی تعلیم کے ماتحت خلیفہ خدا بناتا ہے وغیرہ وغیرہ۔آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اب جب میں خلافت کا نظام عملاً قائم ہو چکا ہے اور تم ایک ہاتھ پر بیعت کر چکے ہو تو اب تم میں یا کسی اور میں یہ طاقت نہیں ہے کہ خدا کی مشیت کے رستے میں حائل ہو اور فرمایا کہ جو قمیض مجھے خدا نے پہنائی ہے وہ میں اب کسی صورت میں اتار نہیں سکتا۔مگر افسوس که منکرین خلافت کا پراپیگنڈا ایسی نوعیت اختیار کر چکا تھا کہ ان پر کسی دلیل کا اثر نہیں ہوا اور بظاہر حضرت خلیفہ اوّل کی بیعت کے اندر رہتے ہوئے انہوں نے خلافت کے خلاف اپنی خفیہ کارروائیوں کو جاری رکھا۔لیکن حضرت خلیفہ اول کی تقریروں سے ایک عظیم الشان فائدہ ضرور ہو گیا