سلسلہ احمدیہ — Page 308
۳۰۸ ہے۔اس موقعہ پر آپ نے حاضرین کو جن میں منکرین خلافت کے سرکردہ اصحاب شامل تھے نصیحت بھی فرمائی کہ دیکھو حضرت مسیح موعود کے اس قدر جلد بعد جماعت میں اختلاف اور انشقاق کا بیج نہ بو اور جس جھنڈے کے نیچے تمہیں خدا نے جمع کر دیا ہے اس کی قدر کرو۔آپ کی یہ تقریر اس قدر دردناک اور رقت آمیز تھی کہ اکثر حاضرین بے اختیار ہو کر رونے لگے اور منکرین خلافت نے بھی معافی مانگ کر اپنے آپ کو پھر خلافت کے قدموں پر ڈال دیا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان اصحاب کی اندرونی بیماری اس سے بہت زیادہ گہری تھی جو مجھی گئی تھی کیونکہ تھوڑے عرصہ کے بعد ہی ظاہر ہوا کہ مؤیدین انجمن کا مخفی پراپیگنڈا بدستور جاری ہے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ زوروں میں ہے۔چونکہ یہ لوگ حضرت خلیفہ اول کے ہاتھ پر بیعت خلافت کر چکے تھے اور اس سے پیچھے ہٹنا مشکل تھا اس لئے اب آہستہ آہستہ انہوں نے یہ بھی کہنا شروع کیا کہ ہمیں حضرت مولوی صاحب کی امامت پر تو اعتراض نہیں ہے اور وہ اپنی ذاتی قابلیت اور ذاتی علم وفضل سے ویسے بھی واجب الاحترام اور واجب الاطاعت ہیں مگر ہمیں اصل فکر آئندہ کا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کے بعد کیا ہوگا کیونکہ ہم مولوی صاحب کے بعد کسی اور شخص کی قیادت کو خلافت کی صورت میں قبول نہیں کر سکتے۔افسوس ہے کہ ان کا یہ عذر بھی دیانتداری پر مبنی نہیں سمجھا جا سکتا تھا کیونکہ جیسا کہ متعدد تحریری شہادات سے ثابت ہے ان اصحاب نے اپنے خاص الخاص حلقہ میں خود حضرت خلیفہ اول کی ذات کے خلاف بھی پراپیگنڈا شروع کر رکھا تھا مگر بہر حال اس وقت ان کا ظاہر قول یہی تھا کہ ہمیں اصل فکر آئندہ کا ہے کہ پیچھے تو جو کچھ ہونا تھا ہو گیا اب کم از کم آئندہ یہ خلافت کا سلسلہ جاری نہ رہے۔اس قول میں ان کا اشارہ حضرت مسیح موعود کے بڑے صاحبزادے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ( موجودہ امام جماعت احمدیہ) کی طرف تھا جن کی قابلیت اور تقویٰ طہارت کی وجہ سے اب آہستہ آہستہ لوگوں کی نظریں خود بخود اس طرف اٹھ رہی تھیں کہ حضرت مولوی صاحب کے بعد وہی جماعت کے خلیفہ ہوں گے۔اس کے بعد سے گویا منکرین خلافت کی پالیسی نے دہرا رخ