سلسلہ احمدیہ — Page 306
اول جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے اس سوال کے اٹھا نیوالے صدر انجمن احمد یہ ہی کے بعض ممبر تھے اور یہ ظاہر ہے کہ انجمن کے طاقت میں آنے سے خود ان کو طاقت حاصل ہوتی تھی۔دوم حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد صدرانجمن احمد یہ اپنے سب سے پہلے فیصلہ میں اتفاق رائے کے ساتھ یہ قرار دے چکی تھی کہ جماعت میں ایک واجب الا طاعت خلیفہ ہونا چاہئے۔لے پس اگر بالفرض حضرت مسیح موعود کی کسی تحریر کا یہ منشاء تھا بھی کہ میرے بعد انجمن کا فیصلہ قطعی ہوگا تو صدرانجمن احمد یہ خلافت کے حق میں فیصلہ کر کے خود خلافت کو قائم کر چکی تھی اور جن اصحاب نے اب خلافت کے خلاف سوال اٹھایا تھا وہ سب اس فیصلہ میں شریک تھے اور اس کے مؤید و حامی تھے۔پس اس جہت سے بھی یہ نیا پراپیگنڈا ایک دیانتداری کا فعل نہیں سمجھا جاسکتا تھا۔سوم یہ بات قطعاً غلط تھی کہ حضرت مسیح موعود نے الوصیت میں خلافت کا ذکر نہیں کیا بلکہ جیسا کہ ہم الوصیت کا ایک اقتباس او پر درج کر چکے ہیں حضرت مسیح موعود نے صراحت اور تعیین کے ساتھ خلافت کا ذکر کیا تھا بلکہ حضرت ابوبکر کی مثال دے کر بتایا تھا کہ ایسا ہی میرے سلسلہ میں ہوگا اور یہ تصریح کی تھی کہ میرے بعد نہ صرف ایک خلیفہ ہوگا بلکہ خلافت کا ایک لمبا سلسلہ چلے گا اور متعدد افراد قدرتِ ثانیہ کے مظہر ہوں گے۔پس ایسی صراحت کے ہوتے ہوئے یہ دعوی کس طرح دیانتداری پر مبنی سمجھا جاسکتا تھا کہ الوصیت میں خلافت کا ذکر نہیں۔چہارم غالبا سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ تھا کہ اس سوال کے اٹھانے والوں نے کھلے طور پر اس سوال کو نہیں اٹھایا بلکہ حضرت خلیفہ اول سے مخفی رکھ کر ے دیکھو اعلان خواجہ کمال الدین صاحب سیکرٹری صدر انجمن احمد یہ مندرجہ الحکم مورخه ۲۸ مئی ۱۹۰۸ء تلخیص از بدرمورخ ۱۲ جون ۱۹۰۸ صفحها