سلسلہ احمدیہ — Page 297
۲۹۷ مستقل الہی نظام کی داغ بیل ہے جس کے لئے یہ مقدر ہے کہ وہ آہستہ آہستہ سارے نظاموں کو مغلوب کر کے دنیا کو ایک نئی صورت میں ڈھال دے گا۔یہ نظام ملکی اور قومی حدود میں مقید نہیں ( کیونکہ حضرت مسیح موعود کی بعثت اپنے مخدوم نبی کی طرح ساری دنیا کے لئے تھی بلکہ تمام ملکوں اور سب قوموں اور سارے زمانوں کے لئے وسیع ہے اور جو انقلاب احمدیت کے پیش نظر ہے وہ دو پہلو رکھتا ہے۔اوّل خدا تعالیٰ کے ساتھ بندوں کے تعلق کو ایک نئی بنیاد پر قائم کر دینا جس میں خدا تعالیٰ کا وجود ایک خیالی فلسفہ نہ ہو بلکہ ایک زندہ حقیقت کی صورت اختیار کر لے اور انسان کا اپنے خالق و مالک کے ساتھ بیچ بیچ پیوند ہو جاوے۔دوسرے بندوں بندوں کا باہمی تعلق بھی ایک نئے قانون کے ماتحت نیا رنگ اختیار کر لے جس میں حقیقی مساوات اور انصاف اور تعاون اور ہمدردی کی روح کا قوام ہو۔یہ تبدیلی اسلامی تعلیم کے ماتحت اور اسی کے مطابق عمل میں آئے گی مگر اس کا اجرا اسی رنگ میں ہو گا جس طرح کہ تمام الہی سلسلوں میں ہوتا چلا آیا ہے۔حضرت مسیح موعود کا ایک الہام اس انقلاب کا خوب نقشہ کھینچتا ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حالت کشف میں دیکھا کہ میرے اندر خدا حلول کر گیا ہے اور میرا کچھ باقی نہیں رہا بلکہ سب کچھ خدا کا ہو گیا ہے اور گویا میں خدا بن گیا ہوں اور پھر میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے کہ:۔ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔1 اس کشفی الہام سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی بعثت اپنے اندر ایک نہایت اہم اور نہایت وسیع غرض و غایت رکھتی ہے اور وہ غرض و غایت یہی ہے کہ دنیا کے موجودہ نظام کو تو ڑ کر اس کی جگہ ایک بالکل نیا نظام قائم کر دیا جاوے۔اس کشف میں آسمان سے مراد حقوق اللہ ہیں اور زمین سے مراد حقوق العباد ہیں۔یعنی حضرت مسیح موعود کے ذریعہ جو انقلاب مقدر ہے وہ لوگوں کے دین اور دنیا دونوں پر ایک سا اثر انداز ہوگا اور گویا اس جہان کا آسمان بھی بدل جائے گا اور زمین بھی بدل جائے گی اور آسمان اور زمین کے الفاظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ یہ تبدیلی ملکی اور قو می نہیں ہوگی بلکہ جس کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۱۰۴ - ۱۰۵