سلسلہ احمدیہ — Page 296
۲۹۶ احمدیت کی غرض وغایت جماعت احمدیہ کے عقاید بیان کرنے کے بعد ہم احمدیت کی غرض و غایت کے متعلق ایک مختصر نوٹ ہدیہ ناظرین کرنا چاہتے ہیں۔اس کتاب کے شروع میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ احمدیت کی بنیادی غرض و غایت اسلام کی تجدید اور اسلام کی خدمت اور اسلام کی اشاعت ہے مگر موجودہ باب میں احمدیت کی غرض و غایت سے ہماری مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ احمدیت کے ذریعہ کن خیالات کی اشاعت چاہتا ہے اور کس طریق کو قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے بلکہ اس جگہ احمدیت کی غرض و غایت سے اس کا منتہی اور مقصد اور اس مقصد کے حصول کا طریق مراد ہے۔سواس تعلق میں سب سے پہلے یہ جانا چاہئے کہ احمدیت کسی سوسائٹی کا نام نہیں ہے جو ایک اصلاحی پروگرام کے ماتحت قائم کی گئی ہو اور نہ ہی وہ دنیا کے نظاموں میں سے ایک نظام ہے جس کا مقصد کسی خاص سکیم کا اجرا ہو بلکہ وہ ایک خالصہ الہی تحریک ہے جو اسی طریق اور اسی منہاج پر قائم کی گئی ہے جس طرح قدیم سے الہی سلسلے قائم ہوتے آئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جب دنیا کے لوگ اپنے خالق و مالک کو بھلا کر اور اپنی پیدائش کی غرض و غایت کی طرف سے آنکھیں بند کر کے دنیا کی باتوں میں منہمک ہو جاتے ہیں اور قرب الہی کی برکات سے محروم ہو کر اس اخلاقی اور روحانی مقام سے نیچے گر جاتے ہیں جس پر خدا انہیں قائم رکھنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے کسی پاک بندے کو مبعوث کر کے انہیں پھر اپنی طرف اٹھاتا ہے اور ان کے اخلاق اور ان کے تہذیب و تمدن کو ایک نئے قالب میں ڈھال کر ایک جدید نظام کی بنیاد قائم کر دیتا ہے۔یہ اسی قسم کا انقلاب ہوتا ہے جس طرح کہ حضرت موسیٰ کے وقت میں ہوا یا جس طرح حضرت مسیح ناصری کے وقت میں ظہور میں آیا یا جس طرح آنحضرت کے زمانہ میں رونما ہوا کہ خدا نے ان مقدس نبیوں کے ذریعہ ایک بیج بوکر بالآ خر اسی بیج کے نتیجہ میں دنیا کی کایا پلٹ دی۔پس حضرت مسیح موعود کی بعثت بھی کسی اصلاحی سوسائٹی کے قیام کی صورت میں نہیں ہے اور نہ ہی وہ ایک وقتی دنیوی نظام کا رنگ رکھتی ہے بلکہ وہ ایک جدید اور