سلسلہ احمدیہ — Page 293
۲۹۳ میں کمر تک دفن کر کے اوپر سے پتھر برسائے گئے مگر انہوں نے خدا کی حمد کے گیت گاتے ہوئے جان دی اور ایک سیکنڈ کے لئے بھی لغزش نہیں کھائی۔تبلیغی جوش کا یہ عالم ہے کہ ہر مخلص احمدی ایک پر جوش مبلغ ہے اور تبلیغ کو اپنا ایک مقدس فرض سمجھتا ہے۔عالم ہے تو وہ مبلغ ہے ان پڑھ ہے تو وہ مبلغ ہے۔بچہ ہے تو وہ مبلغ ہے بوڑھا ہے تو وہ مبلغ ہے۔مرد ہے تو وہ مبلغ ہے عورت ہے تو وہ مبلغ ہے۔غرض ہر مخلص احمدی اپنی سمجھ اور بساط کے مطابق اس پیغام حق کو پھیلانے میں مصروف ہے جو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ دنیا تک پہنچا ہے اور یہ تبلیغی جد و جہد ان کثیر التعداد منظم مشنوں کے علاوہ ہے جو جماعت احمدیہ کی زیر نگرانی دنیا کے مختلف حصوں میں قائم ہیں۔یقینا یہ نقشہ ایک عظیم الشان عملی تبدیلی کا ثبوت ہے جو حضرت مسیح موعود کی روحانی تاثیر نے جماعت احمدیہ میں پیدا کی ہے اور اگر حضرت مسیح ناصری کا یہ قول درست ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے تو لا ریب حضرت مسیح موعود کے شیریں پھل نے بتا دیا ہے کہ یہ درخت بندوں کا نہیں بلکہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا ہے۔حضرت مسیح موعودا اپنی جماعت کے متعلق فرماتے ہیں:۔میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ سچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں اور اعمال صالحہ بجالاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہو جاتے ہیں۔میں اپنے ہزار ہا بیعت کنندوں میں اس قدر تبدیلی دیکھتا ہوں کہ موسیٰ نبی کے پیروان سے جوان کی زندگی میں ان پر ایمان لائے تھے ہزار ہا درجہ ان کو بہتر خیال کرتا ہوں اور ان کے چہرہ پر صحابہ کے اعتقاد اور صلاحیت کا نور پاتا ہوں۔ہاں شاذ و نادر کے طور پر اگر کوئی اپنی فطرتی نقص کی وجہ سے صلاحیت میں کم رہا ہوتو وہ شاذ و نادر میں داخل ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ میری جماعت نے جس قدر نیکی اور صلاحیت میں ترقی کی ہے یہ بھی ایک معجزہ ہے۔ہزار ہا آدمی دل سے فدا ہیں اگر آج ان کو