سلسلہ احمدیہ — Page 294
۲۹۴ کہا جائے کہ اپنے تمام اموال سے دست بردار ہو جاؤ تو وہ دست بردار ہو جانے کے لئے مستعد ہیں۔پھر بھی میں ہمیشہ ان کو اور ترقیات کے لئے ترغیب دیتا ہوں اور ان کی نیکیاں ان کو نہیں سناتا مگر دل میں خوش ہوں۔یہ ایک حسن ظنی اور خود بینی کی رائے نہیں تھی جو ایک امام نے اپنی جماعت کے لئے خود قائم کر لی ہو بلکہ غیر لوگ اور دشمن تک جماعت احمدیہ کی اس تبدیلی کو تسلیم کرتے ہیں۔چنانچہ مسٹر محمد اسلم جرنلسٹ لکھتے ہیں:۔اس جماعت کے اکثر افراد بمقابلہ باقی اسلامی فرقوں کے زہد و تقویٰ میں بہت بڑھے ہوئے ہیں اور ان میں اسلام کی محبت کا جوش ایک صادقانہ پہلو لئے ہوئے ہے۔قرآن مجید کے متعلق جس قدر صادقانہ محبت اس جماعت میں میں نے دیکھی کہیں نہیں دیکھی۔جو کچھ میں نے احمدی قادیان میں جا کر دیکھا وہ خالص اور بے ریا تو حید پرستی تھی۔۲ مسٹر فریڈرک جرمن سیاح لکھتے ہیں:۔66 قادیان دہلی اور آگرہ کی طرح شاندار عمارات کا مجموعہ نہیں لیکن ایک ایسی جگہ ہے جس کے روحانی خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے۔یہاں ہر دن جو گزارا جائے انسان کی روحانیت میں اضافہ کرتا ہے۔میں نے ایشیا میں ایک لمبا سفر کیا ہے اور بہت مقامات دیکھے ہیں۔ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہیں دوبارہ دیکھنے کی خواہش نہیں۔بعض ایسے ہیں جنہیں پھر دیکھنے کو دل چاہتا ہے اور ایسے مقامات میں قادیان کا نمبر سب سے اول ہے۔“ سے پادری ایچ کریمر امریکن مشنری لکھتے ہیں:۔مسلمانوں میں صرف یہی جماعت ہے جس کا واحد مقصد تبلیغ اسلام ہے۔اگرچ منقول از روز نامه افضل قادیان مورخه ۱/۱۲ اپریل ۱۹۱۵ء خط بنام ڈاکٹر عبدالحکیم خاں مرتد بدر ۱۳/ مارچ ۱۹۱۳ء صفحہ ۷ تا ۹ ۳ ریویو آف ریلیجنز مئی ۱۹۳۲ء