سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 291 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 291

۲۹۱ روحانی تاثیر کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ نے اس میدان میں بھی غیر معمولی نمونہ پیش کیا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہم میں کوئی شخص بھی کمزور نہیں۔بے شک ہم میں بعض لوگ کمزور ہیں لیکن بعض کا کمزور ہونا جماعت کی مجموعی حیثیت کو گرانہیں سکتا۔ایک اعلیٰ سے اعلیٰ مدرسہ کی اچھی سے اچھی کلاس میں بھی سب طالب علم ایک سے نہیں ہوتے۔پس دیکھنا یہ چاہئے کہ بحیثیت مجموعی کسی جماعت کا کیا حال ہے اور یقیناً اس معیار کے مطابق جماعت احمدیہ کا مقام دوسری تمام جماعتوں سے نمایاں طور پر بلند و بالا ہے۔عبادات میں، معاملات میں، قربانی میں تبلیغی جوش میں جماعت احمدیہ نے ایک حیرت انگیز ترقی کی ہے جس کی مثال اس زمانہ میں کسی دوسری جگہ نظر نہیں آتی۔عبادات میں یہ حال ہے کہ وہ لوگ جو پہلے کبھی فرض نماز تک کے قریب نہیں جاتے تھے اب وہ ایسے نمازی بن گئے ہیں کہ اگر ان سے بھی تہجد کی نفی نماز بھی رہ جاوے تو گھنٹوں ان کے دل پر غم کا بوجھ رہتا ہے۔جو لوگ رمضان کے مبارک مہینہ میں ایک روزہ بھی نہیں رکھتے تھے۔اب وہ رمضان کے علاوہ بھی سال میں کئی کئی دن نفلی روزے رکھتے ہیں اور پھر بھی ان کی طبیعت سیر نہیں ہوتی۔اسی طرح دوسری عبادتوں کا حال ہے۔معاملات میں بھی ایک غیر معمولی تغیر نظر آتا ہے جو لوگ کئی کئی قسم کی کمزوریوں میں مبتلا تھے اور انصاف کا خون کرنا اور دوسروں کے حقوق غضب کرنا ان کا شیوہ تھا اب وہ بالکل ہی نئے انسان بن گئے ہیں اور وفاداری اور انصاف اور دیانت ان کا امتیازی نشان ہے۔ہزاروں لوگ جو احمدیت سے پہلے طرح طرح کی کمزوریوں کا شکار تھے اب وہ عملاً ولیوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ان معاملات میں نام لے کر مثالیں دینا اچھا نہیں ہوتا مگر ناظرین کو اس بات کا اندازہ کرانے کے لئے کہ احمدیت نے کیا تغیر پیدا کیا ہے میں اس جگہ دو مثالیں بغیر نام لینے کے بیان کرتا ہوں۔ایک صاحب ضلع سیالکوٹ پنجاب کے رہنے والے ہیں وہ سرکاری ملازمت میں تھے اور احمدیت سے پہلے انہوں نے حسب دستور زمانہ لوگوں سے بے دریغ رشوت لی۔مگر جب خدا نے انہیں احمدیت سے مشرف کیا