سلسلہ احمدیہ — Page 290
کے تین مشہور فرقوں میں سے آپ ہراک میں کئی جہت سے خوبیاں تسلیم فرماتے تھے مگر فرماتے تھے کہ ان میں سے ہراک فرقہ بعض پہلوؤں سے جادہ صواب سے منحرف ہو گیا ہے۔مثلاً اہل فقہ نے تقلید میں ایسا اندھا دھند طریق اختیار کر لیا ہے کہ وہ اپنے مقررہ امام کے قول کے خلاف قرآن و حدیث تک کا کوئی استدلال سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔اور اہل حدیث نے یہ غلطی کی ہے کہ اجتہاد کے دروازے کو بالکل ہی وسیع کر دیا ہے اور جو واجبی وزن علماء اور ائمہ کے اقوال کو ہونا چاہئے اس سے بھی انہیں محروم کر دیا ہے۔بلکہ بعض صورتوں میں ائمہ کرام کی ہتک کا طریق اختیار کیا ہے اور اہل تصوف کے متعلق فرماتے تھے کہ یہ آہستہ آہستہ شریعت کے ظاہر سے ہٹ کر بعض بدعتوں میں مبتلا ہو گئے ہیں۔مگر باوجود اس کے حضرت مسیح موعود ان جملہ فرقوں کی بہت سی خوبیوں کو تسلیم فرماتے تھے اور شیعہ اور سنی ہر دو فرقوں کے بزرگوں کو بڑی عزت کی نظر سے دیکھتے تھے۔جماعت احمدیہ کی عملی اصلاح:۔یہ وہ عقائد ہیں جن پر حضرت مسیح موعود نے خدا سے علکم پا کر کی بنیاد رکھی۔ان کے علاوہ بعض اور عقائد بھی ایسے ہیں جن میں جماعت احمدیہ اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے مگر زیادہ اہم اور زیادہ معروف عقائد یہی ہیں جو ہم نے اوپر و بیان کر دیئے ہیں۔اگر احمدیت کے ان مخصوص عقائد کو اسلام کی مشترک اور مسلم تعلیم کے ساتھ ملا کر دیکھا جاوے تو جماعت احمدیہ کے اصولی عقائد کا ایک اجمالی نقشہ مکمل ہو جاتا ہے اور اسی لئے ہم نے سابقہ باب میں اسلامی تعلیم کا ڈھانچہ بھی درج کر دیا ہے تا کہ احمدیت کی تصویر کا وہ عقبی منظر جس پر قدرت کے ہاتھ نے یہ جدید نقوش قائم کئے ہیں ہمارے ناظرین کے سامنے رہے اور وہ تحریک احمدیت کے وسیع میدان پر ایک مجموعی نظر ڈال کر صحیح رائے قائم کر سکیں۔مگر کوئی مذہبی سلسلہ صرف عقائد کی اصلاح تک اپنے کام کو محدود نہیں رکھ سکتا کیونکہ مذہب کی بڑی غرض و غایت اعمال کی اصلاح ہے اور دنیا میں کوئی قوم کامل ترقی حاصل نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ عقائد کے ساتھ ساتھ اعمال کی بھی اصلاح نہ کرے اور الحمد للہ کہ حضرت مسیح موعود کی تعلیم اور